سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 354
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 354 حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہے۔مسلمان ہونے کے بعد دور اندیش حضرت سعد نے اپنے قبیلہ کے نو مسلموں کی تربیت اور آگے تبلیغ کی خاطر مبلغ اسلام حضرت مصعب بن عمیر کو اپنے پاس لے آئے۔ان کے قیام و طعام کا انتظام کیا اور اپنے ڈیرے پر لوگوں کو بلا کر حضرت مصعب کے ذریعہ دعوت الی اللہ کے کام میں تیزی پیدا کی۔رسول کریم علیہ نے ایک روایت کے مطاق حضرت سعد بن ابی وقاص سے آپ کی مواخات قائم فرمائی۔دوسری روایت کے مطابق ان کے حضرت ابو عبیدہ بن الجرح کا دینی بھائی بنایا۔(4) مسلمانوں کیلئے ہجرت مدینہ کے بعد پیدا ہونے والے غیر معمولی اور کٹھن حالات میں حضرت سعد جیسے با اثر سردار مدینہ کا قبول اسلام اہل مدینہ کیلئے ایک نعمت ثابت ہوا اور وہ حضرت ابو بکر و عمر کی طرح رسول اللہ علیہ کے دست و بازو اور عمدہ مشیر ثابت ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو سردارانہ شان کے ساتھ حزم و دانش بھی خوب عطا کی تھی اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک نڈر اور بے باک سردار تھے۔مدینہ کے ابتدائی دور میں طواف کعبہ سردار مدینہ ہونے کے ناطے آپ کے ذاتی تعلقات سرداران مکہ سے بھی تھے۔سردار قریش امیہ بن خلف سے تو ایسی گہری دوستی تھی کہ وہ ملک شام وغیرہ کے سفر پر جاتے ہوئے مدینہ میں حضرت سعد کا مہمان ٹھہرتا تھا۔حضرت سعد مکہ جاتے تو اس کے ذاتی مہمان ہوتے۔رسول کریم کی مدینہ تشریف آوری کے بعد پہلے سال کی بات ہے حضرت سعد عمرہ کرنے مکہ گئے اور اپنے دوست امیہ کے مہمان ٹھہرے لیکن چونکہ وہاں مسلمانوں کی سخت مخالفت تھی اسلئے از راہ احتیاط اپنے دوست امیہ سے کہا کہ کسی مناسب وقت میں جب بیت اللہ میں بہت ہجوم نہ ہو مجھے خاموشی سے خانہ کعبہ کا طواف کروادینا۔“ امید ان کو سنسان دو پہر میں طواف کیلئے لے گئے مگر کرنا خدا کا کیا ہوا کہ سردار مکہ ابو جہل سے آمنا سامنا ہو گیا اور اس نے امیہ سے پوچھ لیا کہ ابو صفوان ! یہ تیرے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ میرے دوست سعد ہیں۔ابو جہل نے سعد کو مخاطب ہو کر کہا میں تمہیں مکہ میں امن سے طواف کرتے دیکھ رہا ہوں۔حالانکہ تم لوگوں نے بے دین لوگوں (مسلمانوں) کو پناہ دے رکھی ہے اور ساتھ ان کی مکمل حمایت و مدد کے اعلان بھی کرتے ہو۔خدا کی قسم ! اگر سردار مکہ ابو صفوان تمہارے ساتھ نہ ہوتا تو آج تم اپنے گھر والوں کی طرف صحیح سلامت واپس لوٹ کر نہ جاتے۔