سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 342
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 342 حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ فرد ہیں۔ہجرت کے بعد مدینہ میں مسلمانوں کیلئے نیا ماحول تھا یہود کی دشمنی الگ تھی ، آنحضرت علی کو فکر لاحق تھی کہ اس عاشق صادق اور وفا شعار صحابی کی بیماری یا موت دشمن کی خوشی کا موجب نہ ہوں۔حضور ﷺ اسعد کی عیادت کیلئے ان کے گھر تشریف لے گئے۔ان کی بیماری کا حال دیکھ کر آپ نے پہلے ہی تقدیر الہی کا مسئلہ کھول کر بیان کر دیا اور فرمایا کہ ” حضرت اسعد اس بیماری سے جانبر نہیں ہو سکیں گے اور یہود طعنہ زنی کریں گے کہ دیکھو! یہ کیسا نبی ہے اپنے وفا شعار ساتھی کو بھی بچا نہیں سکا۔آپ نے فرمایا کہ ”سچ تو یہ ہے کہ نہ تو میں اپنے بارے میں بھی کوئی قدرت اور اختیار رکھتا ہوں نہ کسی دوسرے کیلئے مجھے کوئی طاقت حاصل ہے اس لئے کوئی مجھے ابو امامہ ( اسعد بن زرارہ) کے بارہ میں ملامت نہ کرئے تقدیر مبرم معلوم ہو جانے پر بھی حضور نے علاج اور تدبیر نہیں چھوڑی۔آنحضور کے مشورہ سے بالآخر داغنے کا علاج کیا گیا مگر تقدیر الہی غالب آئی اور حضرت اسعد بن زرارہ اسی بیماری سے فوت ہو گئے۔(10) اس موقع پر بھی آنحضرت ﷺ نے کمال محبت اور تعلق کا اظہار فرمایا ان کی وفات کے بعد حضور خود ان کے غسل دینے میں شریک ہوئے۔انہیں تین چادروں کا کفن پہنایا اور خود نماز جنازہ پڑھائی۔حضرت اسعد وہ پہلے خوش قسمت صحابی تھے جو جنت البقیع میں دفن ہوئے۔نبی کریم ہے ان کے جنازہ کے ساتھ آگے آگے چلتے ہوئے جنت البقیع تک گئے اور یوں ایک اعزاز کے ساتھ اپنے وفا شعار ساتھی کی تدفین فرمائی۔(11) حضرت اسعد کی وفات جنگ بدر سے پہلے اور ہجرت نبوی کے چھ ماہ بعد شوال کے مہینے میں رض ہوئی۔جبکہ مسجد نبوی کی تعمیر جاری تھی۔آنحضرت علے سے حضرت اسعد کی محبت کا یہ عالم تھا کہ جو تین بیٹیاں کبشہ ، حبیبہ اور فارعہ چھوڑیں انکی وصیت اپنے آقا آنحضرت کے حق میں کی کہ رسول اللہ ﷺ ہی میری بچیوں کے نگران و محافظ ہوں گے اور ان کے حق میں جو مناسب فیصلہ ہو وہی فرمائیں گے۔آنحضرت ﷺ نے بھی یہ حق خوب ادا کیا حضرت اسعد کی بچیوں کو اپنے گھر میں لے آئے۔وہ آپ کے کنبہ کی طرح آپ ہی کے گھر میں رہتی تھیں۔آپ کے گھر میں ہی پلی بڑھیں اور آنحضور نے ان کا بہت خیال رکھا۔بعد