سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 327 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 327

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 327 حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ دیا کہ یارسول اللہ ﷺ ہم ہر قسم کی قربانی کیلئے حاضر ہیں اور حسب ضرورت باہر نکل کر بھی ہم دشمن کا مقابلہ کریں گے۔حضرت عمر نے بھی یہی مشورہ دیا لیکن حضور پھر بھی مشورہ طلب کر رہے تھے۔غالباً آپ کا روئے سخن انصار مدینہ کی طرف تھا کہ ان میں سے کوئی مشورہ دے۔دریں اثناء حضرت مقداد بن اسود کھڑے ہوئے۔انہوں نے ایسی ایک پر جوش تقریر کی جس کا اثر انصار و مہاجرین سب پر ہوا اور سب ان جذبات سے سرشار ہو گئے جو حضرت مقداد کے تھے۔انہوں نے عرض کیا ! ” یارسول اللہ ہم موسی کے ساتھیوں کی طرح نہیں ہیں کہ یہ کہیں کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔خدا کی قسم ! ہم تو وہ وفاشعار غلام ہیں جو آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی۔آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔یارسول اللہ اگر آپ حکم دیں تو ہم اپنے گھوڑے سمندر میں ڈالنے کیلئے تیار ہیں۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مقداد نے جب یہ جوش بھرے الفاظ کہے تو ہم نے دیکھا آنحضور ﷺ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔بے شک اس وقت ایثار و فدائیت کے جذبے اگر چہ تمام صحابہ کے دل میں موجیں ماررہے تھے مگر ان کو زبان حضرت مقداد نے دی۔اس لئے آنحضور ﷺ کے چہرے پر رونق آنا ایک طبعی بات ہے کہ آنحضور کو خوش کرنے والے حضرت مقداد تھے۔اسی لئے حضرت عبداللہ بن مسعود جیسے بزرگ صحابی بعد میں بھی بجا طور پر کہتے تھے کہ آج بھی میری یہ دلی تمنا ہے کہ وہ نظارہ جو میں نے مقداد سے دیکھا۔اے کاش میری تمام نیکیاں مقداد کی ہوتیں اور یہ نظارہ مجھ سے ظاہر ہوا ہوتا، یعنی قربانی اور ایثار و وفا کے ان جذبوں کو زبان دینے والا سعادت مند میں ہوتا۔(9) حضرت مقداد کی نیکی اور خدمات کا صلہ تھا کہ خود رسول اللہ ﷺ نے از راہ شفقت ان کی شادی کا اہتمام کروایا۔چنانچہ ہجرت کے بعد جب ایک دفعہ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے مقداد سے کہا کہ آپ شادی کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے برجستہ کہا آپ ہی رشتہ دے دیں۔جس پر وہ رنجیدہ بھی ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ رشتہ ، حالات اور کفو میں تفاوت ہوگا۔آنحضرت ﷺ کو جب پتہ چلا تو آپ نے مقداد سے فرمایا کہ میں اپنی چچازاد بہن ضباعہ بنت زبیر تم سے بیاہ دیتا ہوں۔(10) رض