سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 300 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 300

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فضائل بلال 300 حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ اسراء کی رات جنت میں رسول کریم نے ایک آوازسی سنی اور جبریل سے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا آپ کے مؤذن بلال ہیں۔نبی کریم نے اس سفر سے واپس تشریف لا کر فرمایا بلال کامیاب ہو گیا۔میں نے اس کے لئے یہ یہ دیکھا ہے۔(28) حضرت عمر فرمایا کرتے تھے ابُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَاعْتَقَ سَيِّدَنَا بِلالا۔ابوبکر ہمارے آقا تھے، ہمارے سردار تھے، اور انہوں نے ہمارے آقا بلال کو آزاد کیا تھا۔(29) حضرت عمرؓ ایک غیر معمولی احترام کا مقام حضرت بلال کو دیتے تھے اور یہی حال ان کے بیٹے عبد اللہ بن عمر کا تھا۔جب ان کے سامنے ان کے حقیقی بیٹے بلال بن عبد اللہ کی تعریف کرتے ہوئے شاعر نے یہ شعر پڑھا۔بَلالُ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ خَيْرُ بِلالِ تو بے اختیار حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو آنحضرت کی غیرت آئی اور کہنے لگے نہیں نہیں ایسا مت کہو بِلالُ رَسُولِ اللَّهِ خَيْرُ بِلالِ محمد مصطفی علیہ کا بلال ہی سب سے بہترین بلال تھا۔(30) حضرت زید بن ارقم کہا کرتے تھے کہ بلال کتنا ہی اچھا انسان ہے کہ شہداء کا سردار ہے اور موذنوں کا سردار ہے اور قیامت کے دن معز ز مؤذن بلال کی پیروی کرتے ہوئے جنت میں داخل ہوں گے۔گویا بلال جھنڈا لے کر ان کے آگے آگے ہوگا اور وہ ان کو جنت میں داخل کرنے کا موجب ہوگا۔حضرت بلال رسول اللہ کی زندگی میں عیدین وغیرہ کے موقع پر ہاتھ میں نیزہ تھا مے آگے چلتے تھے۔یہ نیزہ نجاشی شاہ حبشہ نے رسول کریم ملی کو تحفہ بھجوایا تھا۔رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر کیلئے یہی خدمت انجام دیتے رہے۔(31) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ بلال کی میٹھی طبیعت اور اس کی شیریں زبان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ بلال کی مثال تو شہد کی مکھی جیسی ہے۔جو میٹھے پھولوں اور کڑوی بوٹیوں سے بھی رس چوستی ہے مگر جب شہد بنتا ہے تو سارے کا سارا شیریں ہوتا ہے۔(32) بلال حضرت ابو بکر کے آزاد کردہ اور تربیت یافتہ تھا اور سیرت صدیقی کی گہری چھاپ ان پر