سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 240 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 240

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حلیه و خاندان 240 حضرت مصعب بن عمیر حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ در میانه قد حسین نقش، گورا رنگ، روشن چهره، در از زلفیں، چہرہ سے ملاحت اور ملائمت عیاں۔یہ نو جوان رعنا خاندان قریش کے خوبرو چشم و چراغ مصعب بن عمیرہ ہیں۔نسب تیسری پشت میں نبی کریم ﷺ سے جاملتا ہے۔والدہ جناس بنت مالک مکہ کی مالدارخاتون تھیں۔انہوں نے مصعب کی پرورش بہت ناز و نعمت سے کی۔آپ بہترین پوشاک اور اعلیٰ لباس پہنتے۔مکہ کی اعلیٰ درجہ کی خوشبو استعمال کرتے اور حضرم کے علاقہ کا بنا ہوا مشہور جوتا منگوا کر پہنتے تھے۔(1) آنحضرت عله مصعب بن عمیر کو دیکھ کر فرمایا کرتے تھے کہ میں نے مصعب سے زیادہ حسین و جمیل اور ناز و نعمت اور آسائش میں پروردہ کوئی شخص نہیں دیکھا۔(2) اسلام میں سبقت لے جانے کے لحاظ سے آپ کا شمار صاحب فضلیت صحابہ نہیں ہوتا ہے۔مدینہ میں پہلی بار اسلام کا پیغام پہنچانے اور وہاں دعوت و تبلیغ کے ذریعہ انصار مدینہ کو منظم کرنے کی تاریخی سعادت آپ کے حصہ میں آئی۔حبشہ و مدینہ دو ہجرتوں کی توفیق پائی۔بدر واحد میں اسلام کے علم بردار ہونے کا اعزاز پایا۔(3) قبول اسلام اور آزمائش آغاز اسلام میں جب آنحضرت ﷺ دارارقم میں تھے۔حضرت مصعب بن عمیر نے عین عالم جوانی میں بعمر 27 سال اسلام قبول کیا۔مگر ابتداء اپنی والدہ اور قوم کی مخالفت کے اندیشہ سے اسے مخفی رکھا۔(4) چھپ چھپا کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔ایک دفعہ عثمان بن طلحه ( کلید بردار کعبہ) نے انہیں نماز پڑھتے دیکھ لیا اور ان کے گھر والوں کو خبر کر دی۔والدین نے ان کو قید کر دیا۔بڑی مشکل سے بھاگ کر قید سے چھٹکارا حاصل کیا اور ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے۔کچھ عرصہ بعد جب بعض مہاجرین حبشہ سے مکے میں بہتر حالات کی افواہیں سن کر واپس آئے تو ان میں مصعب بن عمیر بھی تھے۔اگر چہ غریب الوطنی ، سفر کی صعوبتوں اور مصائب و آلام نے ناز و نعم کے