سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 238
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 238 حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حضرت ابو ہریرۃا فتح خیبر کے زمانہ میں یمن سے ہجرت کر کے مدینہ آئے۔وہ بھی ان غرباء و مساکین اصحاب صفہ میں شامل تھے جو دین کی تعلیم تربیت کی غرض سے مسجد نبوی سے گویا چھٹے رہتے تھے۔حضرت جعفر کو ان مسکینوں کا کتنا خیال ہوتا تھا اس کا اندازہ حضرت ابو ہریرہ کی بپتا سے بآسانی کیا جاسکتا ہے۔وہ بیان کرتے ہیں ان دنوں میں بھوکا پیاسا در رسول ﷺ سے چمٹار ہتا تھا اور بھوک اور فاقہ کی شدت سے نڈھال ہوتا۔بسا اوقات خالی پیٹ ہونے کے باعث کنکریوں کے اوپر اوندھے منہ لیٹ کر اس تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کرتا تھا گا ہے کسی صحابی رسول سے کسی خاص آیت کے بارہ میں استفسار کرتا ( جوغر با کوکھانا وغیرہ کھلانے کے مضمون پر مشتمل ہوتی ) حالانکہ وہ آیت مجھے یاد ہوتی تھی۔مگر میری غرض احسن رنگ میں توجہ دلانا ہوتی تھی کہ شاید اس طرح وہ مجھے کھانا کھلا دیں۔میں نے اس زمانہ میں دیکھا کہ مسکینوں کے حق میں سب لوگوں سے بہتر اگر کوئی شخص تھا تو وہ حضرت جعفر تھے۔وہ ہمیں اپنے گھر لے جاتے۔گھر میں جو موجود ہوتا ہمیں کھلاتے تھے۔بعض اوقات تو وہ چمڑے کا مشکیزہ نما برتن جس میں شہد یا گھی ہوتا تھا اٹھا کر لے آتے اور ہم بھوک کے مارے اسے چیر پھاڑ کر اندر جو کچھ ہوتا وہ بھی چاٹ لیتے تھے۔“ (16) غالباً یہی وجہ تھی کہ ابوھریرہ بر ملا اپنی اس رائے کا اظہار کیا کرتے تھے کہ رسول کریم کے بعد حضرت جعفر طیار سے بہتر اور افضل انسان ہم نے کوئی نہیں دیکھا۔‘ (17) شاعر در باد نبوی حضرت حسان بن ثابت نے حضرت جعفر کی شہادت کے موقع پر کیا خوب مرثیہ کہا:۔وَكُنَّا نَرَىٰ فِى جَعْفَرٍ مِنْ مُحَمَّدٍ وَفَاءً وَامَرًا صَارَ مَاحَيثُ يُؤمَرُ فَلاَ زَالَ فِى الْإِسلامِ مِنْ آلِ هَاشِمٍ دَعَائِمُ عِزّ لَا يَزُولُ ومُفَخَرُ یعنی ہم حضرت جعفر طیار کے نمونے میں وفا کا عظیم الشان نمونہ دیکھتے ہیں کہ جہاں جو فرمان ملا انہوں نے سرتسلیم خم کر دیا اور آل ہاشم تو ہمیشہ ہی عزت کے ستون بن کر قابل فخر اسلامی خدمات بجا