سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 208 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 208

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 208 حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ حملہ آور ہوا۔(14) وحشی کا اپنا بیان ہے کہ میں ایک چٹان کے پیچھے چھپ کر حمزہ پر حملہ کرنے کی تاک میں تھا جونہی وہ میرے قریب ہوئے میں نے تاک کر انہیں نیزہ مارہ جو ان کی ناف میں سے گزرتا ہوا پشت سے نکل گیا۔(15) نعش کی بے حرمتی عقبہ بن ربیعہ کی بیٹی ہند نے اپنے باپ کا انتقام لینے کیلئے (جو بدر میں حضرت حمزہ کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے مارا گیا تھا) یہ نذرمان رکھی تھی کہ مجھے موقع ملا تو میں حمزہ کا کلیجہ چباؤں گی۔چنانچہ حضرت حمزہ کی شہادت کے بعد اس نے واقعی ایسا کیا اور حضرت حمزہ کا کلیجہ چبا چبا کر پھینک دیا۔(16) حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے بعد ابوسفیان نے مسلمانوں سے مخاطب ہو کر بآواز بلند یہ اعلان کیا کہ آج بدر کے دن کا بدلہ ہم نے لے لیا ہے اور تم کچھ نعشوں کا مثلہ کیا ہوا دیکھو گے، اگر چہ میں نے اس کا حکم نہیں دیا تھا لیکن یہ بات مجھے کوئی ایسی بری بھی نہیں لگی۔‘ (17) چنانچہ جب حضرت حمزہ کو دیکھا گیا تو ان کا کلیجہ نکال کر چبایا گیا تھا۔نبی کریم اس حال میں جب حضرت حمزہ کی نعش پر آ کر کھڑے ہوئے تو فرمانے لگے۔”اے حمزہ ! تیری اس مصیبت جیسی کوئی مصیبت مجھے کبھی نہیں پہنچے گی۔میں نے اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر آج تک نہیں دیکھا“ پھر آپ نے فرمایا ” جبرائیل نے آکر مجھے خبر دی ہے حمزہ بن عبدالمطلب کو سات آسمانوں میں اللہ اور اس کے رسول کا شیر لکھا گیا ہے۔“ (18) آپ نے حضرت حمزہ کو مخاطب کر کے فرمایا اللہ کی رحمتیں تجھ پر ہوں جہاں تک میراعلم ہے آپ بہت ہی صلہ رحمی کرنے والے اور نیکیاں بجالانے والے تھے اور آج کے بعد تجھ پر کوئی غم نہیں۔‘‘ (19)