سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 186
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 186 حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ باگ پکڑ لی اور گھیرا ڈال کر ہر طرف سے آپ پر حملہ آور ہو گئے اور سخت زخمی کر دیا۔آپ کی گردن پر تلواروں کے اتنے کاری زخم آئے کہ اچھے ہونے کے بعد بھی اس میں گڑھے باقی رہ گئے۔حضرت عروہ کہا کرتے تھے حضرت زبیر کی پشت پر بدر کے زخم کے بعد یرموک کے زخم کا گڑھا تھا جس میں انگلیاں داخل کر کے میں بچپن میں کھیلا کرتا تھا۔(11) موصل کے ایک بزرگ کی روایت ہے کہ ایک سفر میں میں حضرت زبیر کے ہمراہ تھا انہیں غسل کی ضرورت پیش آئی۔میں نے ان کیلئے پردہ کیا میری نظر ان کے جسم پر پڑی تو وہ تلواروں کے نشانوں سے جگہ جگہ کٹا ہوا تھا۔میں نے کہا کہ ایسے زخموں کے نشان میں نے کسی شخص پر نہیں دیکھے انہوں نے فرمایا ان میں ہر زخم رسول اللہ علیہ کے ساتھ خدا کی راہ میں لگا۔(12) ایسے حیرت انگیز مجاہدوں کی شجاعت اور قربانیوں کا ہی نتیجہ تھا کہ رومی فوج بھاگ گئی اور یرموک کے میدان میں مسلمانوں کو فتح ہوئی۔اور وہ ملک شام کے تاج و تخت کے وارث بنے۔فتح شام کے بعد حضرت عمرو بن العاص نے مصر کا قصد کیا۔حضرت عمرؓ نے ان کی مدد کے لئے دس ہزار کی فوج اور چار افسروں کی کمک بھیجی اور لکھا کہ ان افسروں میں سے ایک ایک ہزار سوار کے برابر ہے۔ان میں سے ایک کمانڈر حضرت زبیر بھی تھے۔حضرت عمرو بن العاص نے محاصرہ فسطاط کے جملہ انتظامات ان کے سپر دفرمائے تھے۔سات ماہ ہو گئے محاصرہ ٹوٹنے کو نہ آتا تھا۔حضرت زبیر نے ایک دن تنگ آکر کہا کہ آج میں مسلمانوں پر اپنی جان فدا کرتا ہوں۔یہ کہ کرننگی تلوار ہاتھ میں لئے اور قلعہ کی دیوار کے ساتھ سیڑھی لڑکائی اور اوپر چڑھ گئے تاکہ فصیل کو پھلانگ کر قلعے میں داخل ہو جائیں۔چند اور صحابہ نے بھی ساتھ دیا۔فصیل پر پہنچ کر سب نے ایک ساتھ نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے۔تمام فوج نے جوابا ساتھ دیا۔فسطاط کی سرز مین نعرہ ہائے تکبیر سے دہل اٹھی۔عیسائی سمجھے کہ مسلمان قلعے کے اندر گھس آئے ہیں وہ بدحواس ہو کر بھاگے۔دریں اثناء حضرت زبیر نے موقع پا کر قلعے کا دروازہ کھول وہ دیا۔اسلامی فوج اندر داخل ہوگئی اور مقوقس شاہ مصر کی درخواست پر ان کے ساتھ صلح کا معاہدہ طے پایا۔