سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 151
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 151 حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ لے آئے انہی کے بطن سے آپ کے صاحبزادہ ابوسلمہ پیدا ہوئے۔جو بڑے فقیہ بنے۔(6) فتح مکہ کے سفر میں بھی حضرت عبدالرحمن بن عوف شامل تھے۔فتح مکہ کے بعد ایک موقع پر حضرت عبد الرحمن بن عوف کی حضرت خالد بن ولید سے کسی معاملے میں تکرار ہوگئی۔نبی کریم ﷺ کو خبر ہوئی تو خالد سے فرمایا کہ میرے اصحاب کو کچھ نہ کہو اگر تم خدا کی راہ میں جبل احد کے برابر بھی سونا صرف کرو تو ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔فتح مکہ سے حجۃ الوداع تک مہمات میں حضرت عبدالرحمن بن عوف شریک رہے۔رسول کریم ﷺ نے انہیں سفر میں کسی عذر کی وجہ سے ریشم کے استعمال کی اجازت فرمائی تھی۔قیام خلافت اور مشاورت میں کردار رسول اکرم ﷺ کی وفات کے سانحہ پر آپ حضرت ابو بکر صدیق کے ہاتھ پر اولین بیعت کرنے والوں میں سے تھے۔حضرت ابوبکر کو بھی آپ پر بہت اعتماد تھا۔آپ نے ہمیشہ حضرت ابوبکر کے مشیر اور معاون ہونے کا حق ادا کیا۔۱۳ھ میں حضرت ابو بکڑ نے اپنی آخری بیماری میں حضرت عبدالرحمن بن عوف کو بلا کر اپنے جانشین کے بارہ میں مشورہ کیا اور حضرت عمر کا نام تجویز کیا۔انہوں نے اپنی رائے دیتے ہوئے عرض کیا کہ حضرت عمرؓ کی اہلیت میں تو کوئی شبہ نہیں مگر طبیعت ذراسخت ہے۔حضرت ابوبکڑ نے فرمایا کہ خلافت کا بوجھ پڑے گا تو خود بخودہی نرم ہو جائیں گے۔حضرت عمر خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجلس شوری قائم کی۔عبدالرحمن بن عوف اس کے اہم رکن تھے۔کئی معاملات میں آخری فیصلہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی رائے کے مطابق ہوا۔عراق پر فوج کشی کے لئے جب کئی صحابہ نے حضرت عمر کو نہایت پر زور اصرار کے ساتھ اس لشکر کی کمان خود سنبھالنے کے لئے درخواست کی تو حضرت عمرؓ نے اس کا ارادہ کر لیا اور مدینہ پر حضرت علی کو امیر مقرر کر کے جہاد کیلئے روانہ ہوئے۔ابھی مدینہ کے باہر پڑاؤ تھا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اس سفر کی مخالفت کرتے ہوئے پھر عرض کیا کہ لڑائی میں دونوں امکان ہوتے ہیں اور خدانخواستہ امیر المومنین کو کوئی نقصان پہنچ گیا تو اسلام کو نا قابل تلافی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف کی یہ رائے سن کر سب صحابہ اس کے قائل ہو گئے۔مگر اب مشکل یہ تھی کہ اب اس