سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 148
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 148 حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ حلیه و نام و نسب حضرت عبد الرحمن بن عوف لمبا قد ، سرخی مائل سفید رنگ، خوبصورت چہره، باریک بھوئیں، بھری ہتھیلیاں ، موٹی انگلیاں، نرم جلد، داڑھی اور سر کے بال رنگتے نہیں تھے۔یہ تھے عبدالرحمن عوف۔جن کا اصل نام عبدالکعبہ یا عمر و بن عوف تھا۔ایمان لائے تو آنحضرت ﷺ نے عبدالرحمن نام رکھا جو ناموں میں آپ کو سب سے زیادہ پسند تھا۔آپ ان دس خوش نصیب بزرگ اصحاب میں سے تھے جنہیں رسول اللہ علی اپنی زندگی میں جنت کی بشارت دی اور عشرہ مبشرہ میں شامل ہوئے۔(1) والد کا نام عوف اور والدہ کا نام صفیہ یا شفا تھا۔دونوں زہرہ قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے ، کنیت ابو محمد تھی۔نسب آٹھویں پشت میں رسول کریم سے مل جاتا ہے۔واقعہ فیل کے بعد دسویں سال میں پیدا ہوئے۔(2) قبول اسلام رسول اکرم ﷺے کے دعویٰ نبوت کے وقت آپ کی عمر تیس برس سے زائد تھی۔آپ ایک نیک مزاج اور پاک فطرت انسان تھے۔زمانہ جاہلیت میں ہی شراب سے تائب ہو چکے تھے۔نبی کریم ﷺ کے دعوئی سے پہلے حضرت عبدالرحمن کی ملاقات اپنے تجارتی سفر کے دوران یمن میں ایک بوڑھے سے ہوا کرتی تھی۔وہ آپ سے پوچھا کرتا تھا کہ تمہارے اندر کوئی دعویدار نبوت تو ظاہر نہیں ہوا۔جس سال حضور کی بعثت ہوئی اسے میں نے بتایا تو اس نے کہا کہ میں تجھے تجارت سے بہتر بشارت دیتا ہوں کہ یہ شخص نبی ہے تم فور آجاؤ ، اس کی تصدیق کرو اور میرے یہ اشعار سے جا کر سناؤ۔واپس آکر حضرت ابو بکر سے ملاقات ہوئی اور اس واقعہ کا ذکر ہوا پھر رسول کریم کو یہ واقعہ اور اشعار آکر حضرت خدیجہ کے گھر سنائے اور اسلام قبول کر لیا۔عبدالرحمن بہت ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے تھے۔قبول اسلام کے بعد آپ کو بھی وطن کی قربانی دینی پڑی۔پہلے حبشہ ہجرت فرمائی پھر مدینہ رسول کی طرف دوسری ہجرت کی سعادت ملی۔آپ ایک بہت اچھے تاجر تھے۔مگر ہجرت کے