سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 141
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 141 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ بڑے معرکہ کی قیادت کی جس میں تمہیں ہزار مسلمانوں نے کئی لاکھ رومی فوج کو شکست فاش دی اور تین ہزار مسلمانوں کے مقابل پر ستر ہزار رومی مارے گئے۔(26) بیت المقدس کی تاریخی فتح بیت المقدس کی تاریخی فتح میں حضرت ابو عبیدہ نے اہم کردار کیا۔حضرت عمرو بن العاص کے محاصرہ بیت المقدس کے دوران عیسائیوں نے اس شرط پر صلح کی درخواست کی کہ خلیفہ المسلمین حضرت عمر خود آکر اس مقدس شہر سے معاہدہ صلح طے کریں چنانچہ حضرت ابو عبیدہ کی درخواست پر حضرت عمرؓ نے خود تشریف لا کر معاہدہ صلح فرمایا 14ھ میں حضرت عمر نے خالد بن ولید کی جگہ ابو عبیدہ کو والی دمشق مقرر فرمایا۔اسکے بعد ملک شام میں آپ ہی کے ذریعہ عہد فاروقی کی بہت ساری اصلاحات عمل میں آئیں۔علاوہ ازیں حضرت ابو عبیدہ نے ایک عظیم الشان داعی الی اللہ کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک طرف شام میں آباد عیسائی عربی قبائل تک اسلام کا پیغام پہنچانے کا انتظام کیا اور وہ آپ کی کوششوں سے مسلمان ہوئے۔دوسری طرف شامی اور رومی عیسائی بھی آپ کے اخلاق و کردار اور عدل و انصاف سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوئے۔(27) طاعون عمواس اور ابو عبیدہ کا مقام رضا بالقضاء 18 ھجری میں حضرت ابو عبیدہ عمو اس مقام پر پڑاؤ کئے ہوئے تھے کہ شام میں مہلک طاعون پھوٹ پڑی۔حضرت عمر ملک شام کے دورہ پر نکلے تھے۔سرخ کے مقام پر حضرت ابوعبیدہ نے آپ کا استقبال کیا۔یہاں پر آکر پتہ چلا کہ طاعون اور شدت اختیار کر چکی ہے۔صحابہ کرام نے حضرت عمر کو مشورہ دیا کہ وہ یہیں سے واپس چلے جائیں اور طاعون زدہ علاقے میں داخل نہ ہوں ورنہ وبا لگ جانے کا خطرہ ہے۔(28) حضرت عمرؓ خودرضا بالقضاء کے اعلیٰ مقام پر تھے۔آپ نے صحابہ کا مشورہ احتیاطی تدبیر کے طور پر بادل ناخواستہ قبول تو فرمالیا اور مدینہ واپس لوٹے لیکن بر ملا اظہارضرور فرماتے رہے کہ عین ملک شام کے سر پر پہنچ کر ان لوگوں نے طاعون کی وجہ سے مجھے واپس آنے پر مجبور کیا حالانکہ میں خوب