سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 138
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 138 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے اپنے خطاب کی خوب لاج رکھی اور امانت کا حق ادا کر دکھایا۔حضرت عمر کو حضرت ابوعبیدہ کی عملی زندگی میں کامل امین ہونے پر جو بھر پور اعتماد تھا اس کا اظہار انہوں نے اپنی وفات سے قبل اپنی ایک دلی تمنا کے رنگ میں یوں کیا کہ اگر آج ابو عبید کا زندہ ہوتے تو میں ان کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کر جاتا اور اس کے بارہ میں کسی سے مشورہ کی بھی ضرورت نہ سمجھتا اور اگر مجھ سے جواب طلبی ہوتی تو میں یہ جواب دیتا کہ خدا اور اس کے رسول کے امانت دار شخص کو اپنا جانشین مقرر کر آیا ہوں۔(21) شاندار فتوحات اور مفتوحین سے حسن سلوک خلیفہ اول حضرت ابو بکر نے بھی اپنے دور خلافت میں حضرت ابو عبید کا پر بھر پور اعتماد کرتے ہوئے ملک شام کے چاروں اطراف میں نبرد آزما تمام فوجوں کی کمان ان کے سپرد کی۔آپ کے ماتحت چاروں لشکروں کے امیر تھے۔متحدہ فوجوں نے فتح بصری و اجنادین کے بعد دمشق کا محاصرہ کیا تھا کہ حضرت ابو بکر کی وفات ہوگئی۔حضرت عمرؓ کے ابتدائی زمانہ خلافت تک یہ طویل محاصرہ جاری رہا ایک روز حضرت خالد بن ولید شمال حکمت عملی سے منصوبہ بندی کر کے شہر کے ایک طرف سے فصیل پھلانگ کر اندر داخل ہو گئے اور شہر کے اس حصہ کے دروازے کھول دیئے آپ کی سپہ اندر داخل ہوگئی اور شہر کی دوسری جانب ابوعبیده دروازه تو ڑ کر اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔عیسائیوں نے جب یہ دیکھا کہ ابوعبیدہ شہر فتح کرلیں گے تو انہوں نے حضرت خالد کے لئے مشرقی دروازہ کھول کر ان سے تحریری صلح کر لی۔اگر چہ یہ ان کی واضح دھو کہ رہی تھی کیونکہ ایک تو حضرت خالد میر نہ تھے دوسرے ایک طرف سے شہر مفتوح ہونیکی حالت میں پورے شہر کی طرف سے مصالحت کی تحریر لاعلمی میں لی گئی ہر چند کہ دھو کہ کے ساتھ کئے گئے اس معاہدہ صلح کی کوئی اہمیت نہیں تھی مگر حضرت خالد عیسائیوں کو جو امان دے چکے تھے۔حضرت ابو عبیدہ نے اسے واپس لینا پسند نہ فرمایا۔اور مسلمانوں کو سمجھایا کہ بے شک خالد امیر لشکر نہیں پھر بھی رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ کسی ایک مسلمان کی طرف سے دی گئی امان تمام مسلمانوں کی طرف سے پناہ مجھی جائے گی۔(22) چنانچہ نصف شہر دمشق کے مفتوح ہونے کے باوجود اہل شہر کو