سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 114 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 114

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے۔114 حضرت علی رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے موقع پر بھی مسلمانوں کی خاموش پیش قدمی کا راز افشاء ہونے کا اندیشہ ہوا تو نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر اس قاصد عورت کو گرفتار کرنے کے لئے جو ایک خط لے کر کفار مکہ کی طرف جارہی تھی حضرت علی کی سرکردگی میں ایک دستہ روانہ فرمایا۔آپ اپنی اس مہم میں بھی نہایت کامیابی کے ساتھ واپس لوٹے۔غزوہ حنین ایک عظیم الشان معرکے کے بعد مسلمانوں کو فتح ہوئی تو وہ مال غنیمت اکٹھا کرنے میں مصروف ہو گئے۔دشمن کے تیرانداز مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔اس افراتفری کے عالم میں بارہ ہزار کے لشکر میں سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو چند بہادر ثابت قدم رہے۔ان میں حضرت علیؓ نمایاں تھے۔جنہوں نے غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے امیر لشکر پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کر دیا۔اور یوں دیگر مجاہدین اسلام کے ساتھ مل کر دشمن کے لئے شکست کے سامان پیدا کر دیئے۔۹ ہجری میں رسول اللہ ﷺ ہو نے غزوہ تبوک کا قصد فر مایا تو حضرت علی کو امیر مدینہ مقررفرما کر اہل مدینہ کی حفاظت کی ذمہ داری آپ کے سپر دفرمائی۔حضرت علی کو ایک طرف شرکت جہاد کی محرومی کا غم تھا تو دوسری طرف منافقین کے طعنوں سے رنجیدہ خاطر تھے کہ آپ عورتوں اور بچوں کے ساتھ پیچھے چھوڑے جارہے ہیں۔تب رسول پاک ﷺ نے ان خوبصورت الفاظ میں آپ کی دلجوئی کرتے ہوئے فرمایا۔اَمَاتَرضى أن تَكُونَ مِنّى بِمَنزِلَةِ هَارُونَ مِن مُوسَى ---الخ کہ اے علی کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ میری تجھ سے وہی نسبت اور قدرومنزلت ہو جو ہارون کی موسیٰ کے نزدیک تھی۔البتہ تم میرے بعد نبی نہیں ہو گے۔دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ میرے بعد نبی کوئی نہیں ہو سکتا۔اس سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ آپ کا مطلب یہ تھا کہ میری عدم موجودگی میں تم بطورا میر محض میرے جانشین ہو گے لیکن نبی نہیں ہو گے۔(22) اعلان برات غزوہ تبوک سے واپسی پر 9 ہجری میں رسول کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق کو امیر حج