سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 582
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۸۲ معشوق دنیا میں عشق تیرا باقی ہے سب اندھیرا ہے تو میرا عشق صفا یہی ہے غبار اپنا تیرے لئے اُڑایا سے سُنا کہ شرط مهر و وفا یہی ہے دلیر کا ورد آیا حرف خودی مٹایا جب میں مرا چلایا جام بقا یہی ہے کیا کروں کہ اُس نے مجھ کو دیا یہی ہے اس عشق میں مصائب سو سو ہیں ہر قدم میں پر حرف وفا نہ چھوڑوں اِس عہد کو نہ توڑوں اِس دلبر ازل نے مجھ کو کہا یہی ہے جب سے ملا وہ دلبر دشمن ہیں میرے گھر گھر دل ہو گئے ہیں پتھر قدر و قضا یہی ہے مجھ کو ہیں وہ ڈراتے پھر پھر کے در پہ آتے شیخ و تبر دکھاتے ہر سُو ہوا یہی ہے دل ڈرتا نہیں کسی دلبر کی ره میں ہشیار ساری دُنیا اک باؤلا یہی اس رہ میں اپنے قصے تم کو میں کیا سُناؤں دُکھ درد کے ہیں جھگڑے ہے سب ماجرا یہی ہے دل کر کے پارہ پارہ چاہوں میں اک نظارہ دیوانه مت کہو تم عقل رسا یہی ہے