سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 510
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۱۰ حصہ پنجم خداوند کریم کا یہی منشا ہے کہ تا اپنے نبی اور اپنی کتاب کی عظمت ظاہر کرے۔۱۸ نومبر ۱۸۸۲ء مطابق ۲۶ رذوالحجہ ۱۲۹۹ھ ) ( مکتوبات احمد یہ جلد احصہ اوّل صفحہ ۳۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۰۹ مطبوعه ۲۰۰۸ء) حقیقت تو یہ ہے کہ جب سے مخاطبات و مکالمات الہیہ کا سلسلہ شروع ہوا اسی وقت سے شانِ ماموریت نمایاں تھی مگر علی الاعلان جب آپ نے بیعت کے لئے دعوت دی تو میں اسی تاریخ کو بعثت کی تاریخ قرار دیتا ہوں اور یہ یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کا واقعہ ہے اسی سلسلہ میں دوسرا اعلان آپ نے ۱۲ فروری ۱۸۸۹ء کو کیا۔دعوت بیعت سے پہلے آپ ماموریت اور مجددیت کا اعلان کر چکے تھے مگر اس وقت ابھی بیعت نہ لیتے تھے اور حقیقت تو یہ ہے کہ براہین احمدیہ کی تالیف و تصنیف ہی ماموریت کا نتیجہ تھا جیسا کہ آپ نے تحریر فرمایا۔کتاب براہین احمدیہ جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم و مامور ہوکر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے یہ اشتہار انگریزی اور اردو میں تمیں ہزار چھپوا کر بذریعہ رجسٹر ڈ خطوط ہر مذہب کے اکابر اور دنیا کے بڑے بڑے آدمیوں کو بھیجا گیا تھا اس کے متعلق تفصیلات حیات احمد جلد دوم نمبر اول میں بیان کر دیئے ہیں یہاں مجھ کو فقط انتہا ہی بیان کرنا مقصود ہے کہ باوجود یکہ آپ کے الہامات پہلے ہی دن سے آپ کو مامور ومرسل قرار دیتے تھے اور براہین کی تالیف کے وقت مجد دیت اور ماموریت کا اعلان بھی کیا گیا تھا مگر دعوت بیعت کا اعلان دسمبر ۱۸۸۸ ء تک نہ ہوا۔اس لئے میں اسی تاریخ کو آپ کی بعثت کی تاریخ اعلان قرار دیتا ہوں۔اور اسی حصہ میں صرف ان دعاؤں کا ذکر کروں گا جو دسمبر ۱۸۸۸ء تک مختلف اوقات میں آپ کرتے رہے اور جو ہمارے علم میں آئی ہیں ورنہ میں تو یہ یقین رکھتا ہوں کہ آپ کا سب سے زیادہ حصہ زندگی کا دعاؤں ہی میں گزرا ہے اور آپ کا سب سے بڑا حربہ دعا ہی تھا ایک جگہ فرماتے ہیں۔