سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 25
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵ ہندوؤں کے مسئلہ تناسخ کی بیخ کنی کرنے والا ہے اور سب سے تعجب کا یہ مقام ہے کہ بعض اوقات صاحب کشف اپنی توجہ اور قوت تاثیر سے ایک دوسرے شخص پر باوجود صد ہا کوسوں کے فاصلہ کے باز نہ تعالیٰ عالم بیداری میں ظاہر ہو جاتا ہے حالانکہ اس کا وجود عنصری اپنے مقام سے جنبش نہیں کرتا اور عقل کے زور سے ایک چیز کا دو جگہ ہونا محال ہے سو وہ محال اس عالم ثالث میں ممکن الوقوع ہو جاتا ہے اسی طرح صد ہا عجائبات کو عارف بچشم خود دیکھتا ہے اور ان کو ر باطنوں کے انکار سے تعجب پر تعجب کرتا ہے جو اس عالم ثالث کے عجائبات سے قطعا منکر ہیں۔راقم رسالہ ہذا نے اس عالم ثالث کے عجائبات اور نادر مکاشفات کو قریب پانچ ہزار کے بچشم خود دیکھا اور اپنے ذاتی تجربہ سے مشاہدہ کیا اور اپنے نفس پر انہیں وارد ہوتے پایا ہے۔اگر ان سب کی تفصیل لکھی جائے تو ایک بڑی بھاری کتاب تالیف ہو سکتی ہے۔ان سب عجائبات میں سے ایک بڑی عجیب بات یہ ثابت ہوئی ہے کہ بعض کشفی امور جن کا خارج میں نام و نشان نہیں محض قدرتِ غیبی سے وجود خارجی پکڑ لیتے ہیں اگر چہ صاحب فتوحات و فصوص و دیگر اکثر اکابر متصوفین نے اس بارے میں بہت سے اپنے خود گذشت قصے اپنی تالیفات میں لکھے ہیں لیکن چونکہ دید و شنید میں فرق ہے اس لئے مجرد ان قصوں کی سماعت سے ہم کو وہ کیفیت یقینی حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔جو اپنے ذاتی مشاہدہ سے حاصل ہوئی۔ایک مرتبہ مجھے یاد ہے کہ میں نے عالم کشف میں دیکھا کہ بعض احکام قضاء و قدر میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں کہ آئندہ زمانہ میں ایسا ہو گا اور پھر اس کو دستخط کرانے کے لئے خداوند قادر مطلق جل شانہ کے سامنے پیش کیا ہے اور یا درکھنا چاہیے کہ مکاشفات اور رویا صالحہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعض صفات جمالیہ یا جلالیہ الہی انسان کی شکل پر متمثل ہو کر صاحب کشف کو نظر آ جاتے ہیں اور مجازی طور پر وہ یہی خیال کرتا ہے کہ وہی خداوند قادر مطلق ہے اور یہ امرار باب کشوف میں شائع و متعارف و معلوم الحقیقت ہے جس سے حصّہ اوّل