سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 490
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۹۰ ہو اور ہم سب فائدہ اٹھانے کی توفیق پائیں آمین۔حصہ پنجم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے متعلق کچھ اور قبل اس کے کہ میں آپ کی دعاؤں کو اور ان کے آئینہ میں آپ کی سیرت کے نقوش اور خد و خال پیش کروں میں اس مضمون کو درج کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں جو مکرمی مخدومی حضرت مولوی شیر علی صاحب نے ۲۶ دسمبر ۱۹۴۱ء کو سالانہ جلسہ کی تقریب پر پڑھا تھا۔اگر چہ اس میں بعض اقتباسات بھی ممکن ہے آ جاویں جو میں اپنے ابتدائی اور تمہیدی مضمون میں لکھ چکا ہوں مگر یہ قند مکرر کا مزا دے جائیں گے اور دعا کا مضمون اتنا وسیع اور اہم ہے کہ اس کو جتنی بار پڑھا جاوے اور اس پر غور کیا جائے اور پھر اس سے عملاً فائدہ اٹھایا جائے وہ کم ہے۔(عرفانی کبیر ) ہر کام سے پہلے دعا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ طریق عمل تھا کہ ہر ایک اہم کام کے شروع کرنے سے پہلے ضرور دعا کیا کرتے تھے اور دعا بطریق مسنون دعائے استخارہ ہوتی تھی۔استخارہ کے معنے ہیں خدا تعالیٰ سے طلب خیر کرنا۔استخارہ کے نتیجہ میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ کوئی خواب آ جائے جیسا کہ آج کل کے بعض صوفی استخارہ کرتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ سے خیر طلب کرتے ہیں۔یہ طریق مسنون نہیں۔اصل مقصد تو یہ ہونا چاہیے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے خیر حاصل ہو اور دعائے استخارہ سے اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ جو کام ہمارے لئے بہتری اور بھلائی کا ہو وہ آسان ہو جاتا ہے۔بغیر وقتوں کے حاصل ہو جاتا ہے اور قلب میں اس کے متعلق انشراح اور انبساط پیدا ہو جاتا ہے۔عموماً استخارہ رات کے وقت بعد نماز عشاء کیا جاتا ہے۔دورکعت نماز نفل پڑھ کر التحیات میں درود شریف اور دیگر مسنون دعاؤں کے بعد دعائے استخارہ پڑھی جاتی ہے اور اس کے بعد فورا سور ہنا چاہیے۔اور باتوں میں مشغول ہونا مناسب نہیں ہوتا۔لیکن حسب ضرورت دوسرے وقت بھی استخارہ کیا جاسکتا ہے۔