سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 482 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 482

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۸۲ حصہ پنجم ایک مرتبہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے اشاعۃ السنہ کی ایک جلد شائع کی اور اس میں دل کھول کر اس نے گالیاں دیں۔اور اس قدرسخت مخالفت کی کہ اسے پڑھ کر شرم آتی تھی ، وہ گالیوں کا پلندہ اس نے قادیان ایک آدمی کے ہاتھ حضرت کی خدمت میں بھیجا آپ نے اس کو دیکھ کر فوراً عربی زبان میں ایک فقرہ لکھ دیا کہ ”اے اللہ ! اگر یہ شخص مجھ پر اس الزام لگانے میں سچا ہے تو دنیا میں اس کی عزت واکرام پیدا کر دے۔اور اگر جھوٹا ہے تو اس سے مواخذہ کر “ یہ آخری لفظ تو اس سے مواخذہ کر“ آپ نے لکھا اور دنیا میں جس قد رمواخذہ اس سے ہوا۔اور اس کی رہی سہی عزت جاتی رہی۔اور دنیا نے دیکھی۔یہ بھی بددعا نہ تھی۔بلکہ ایک طلب انصاف وفریاد داد تھی۔ایسا ہی ایک موقعہ پر راولپنڈی کے ایک بزرگ کی نسبت ایک واقعہ ہوا۔مگر اللہ تعالیٰ نے اسے بہت ہی جلد بصیرت دے دی اور اللہ تعالیٰ کے اخذ سے وہ بچ گیا اس کی زندگی کا وہ سب سے بڑا کارنامہ ہے غرض حضرت کی طبیعت میں رحم اور کرم بے حد تھا چنانچہ خود فرماتے ہیں۔اور یہ واقعہ ہے ؎ گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں اُن لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے ہاں ! اپنی صداقت و منجانب اللہ ہونے پر آپ کو اسی قدریقین اور بصیرت تھی کہ ہمیشہ جب بھی موقع آیا آپ نے اپنے آپ کو اللہ کے حضور پیش کیا۔کہ اگر میں مفتری اور کذاب ہوں تو مجھے پارہ پارہ کر اور ایسا عذاب نازل کر کہ اس کی نظیر نہ ہو۔اس قسم کی دعاؤں کے بعد دیکھا گیا کہ آپ کا اکرام اور اعزاز بڑھا۔جماعت میں ترقی ہوئی۔آپ کے کاموں میں ہر قسم کی قربانیاں کرنے والے سعادت مندوں کی تعداد بڑھی ایسے ہی ایک موقع کی ایک دعا کو کسی دوسری جگہ درج کروں گا۔یہ آپ کی ہمت بلند اور وسعت اخلاق کا ایک نمونہ ہے کہ دشمنوں کے لئے بھی اپنی دعاؤں کو وسیع کرتے تھے چنانچہ جولائی ۱۹۰۰ء میں آپ نے جماعت کی اصلاح اور تزکیہ نفس کے لئے تقریر