سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 442 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 442

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۲ بستریم (1) یا رب باب چشم من ایں کسل شاں بشو کامروز تر شد است ازین درد (۲) امروز قوم من نه شناسد مقام من روزے بگرید یاد کند وقت خوشترم (۳) در تنگنائے حیرت و فکرم ز قوم خولیش! یا رب عنایتے کہ ازیں فکر مضطرم (۴) بد گفتم از نوع عبادت شمرده اند در چشم شاں پلید تر از هر مزوّرم اور پھر اپنے دل کو خطاب کر کے کہتے ہیں۔اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاہ دار کاخر کنند دعواء حبّ پیمبرم! بالاخر اپنے استغنا اور حوصلہ اور ضبط نفس کا عملاً ثبوت دیتے ہوئے زبان سے کہہ رہے تھے۔(۱) از طعن دشمناں خبرے چوں شود مرا کاندر خیالِ دوست بخواب خوش اندرم (۲) بد بوئے حاسداں نرساند زیان به من من ہر زماں نے نافہ یادش معطرم! سیالکوٹ کا یہ منظر اس سلسلہ کی تاریخ میں نمایاں رہے گا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حلم وحوصلہ کا ایک بین اور تاریخی ثبوت اس قسم کے حالات اور واقعات صرف ایک جگہ ہی پیش نہیں آئے بلکہ جہاں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اعلائے کلمتہ الحق کے لئے خدا تعالیٰ کے اشارہ سے سفر کرنا پڑا۔ہر جگہ اسی قسم کے مناظر پیش آئے۔دہلی ، لودہانہ، امرتسر میں اس کی نظیر میں موجود ے ترجمہ اشعار۔ا۔اے رب میری آنکھ کے پانی سے ان کی یہ ستی دھو ڈال کہ اس غم کے مارے آج میرا بستر تک تر ہو گیا۔۲۔آج کے دن میری قوم میرا درجہ نہیں پہچانتی لیکن ایک دن آئے گا کہ وہ روروکر میرے مبارک وقت کو یاد کرے گی۔۳۔میں اپنی قوم کے باعث حیرت اور فکر کی مصیبت میں ہوں اے میرے رب مہر بانی فرما کہ میں اس پریشانی سے بے قرار ہوں۔۴۔ان لوگوں نے مجھے بُرا کہنا عبادت سمجھ رکھا ہے ان کی نظروں میں میں ہر کذاب سے زیادہ پلید ہوں۔تاہم اے دل تو ان لوگوں کا لحاظ رکھ کیونکہ آخر میرے پیغمبر کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں ے ا۔دشمنوں کے طعن کا مجھ پر کیا اثر ہوسکتا ہے میں تو دوست کے تصور میں مدحوش ہوں۔۲۔حاسدوں کی بد بو مجھے نقصان نہیں پہنچاسکتی کیونکہ میں ہر وقت یا دخدا کے نافہ سے معطر رہتا ہوں۔