سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 441
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۱ میں ان نالائقوں کا نقشہ کھینچا ہے اور بڑی رعایت سے اُن کی حالت کو عریاں کیا ہے۔وہ قابل غور ہے۔اہل حدیث کے الفاظ حسب ذیل ہیں۔چنانچہ ان سے ( مخالف مسلمانوں۔عرفانی ) جہاں تک ہو سکا انہوں نے مرزا صاحب کا ساتھ دیا۔روانگی کے وقت بدستور ریلوے سٹیشن تک جیسا استقبال کیا تھا۔اس سے بڑھ کر استد بار کیا۔بلکہ ایک مزید بات یہ بھی ہوئی جو سچ تو یہ ہے کہ مسلمانوں نے قادیانی کرشن جی کی مہما میں اپنے اسلامی اخلاق کو بھی بالائے طاق رکھ دیا۔چلتی گاڑی کے وقت اسٹیشن سے ایک طرف پرہ باندھ کر کھڑے ہو گئے۔اور مرزا صاحب کی مستورات کے سامنے جوش جنون میں ننگے ہو کرنا چتے رہے۔“ (الحکم ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۴ کالم نمبر ۳) یہ وہ رائے ہے جو سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ایک گستاخ و شوخ دشمن نے ظاہر کی ہے۔اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ یہ ننگ انسانیت حرکت کرنے والا مجمع کس حد تک پہنچا ہوا تھا۔میں جو ان حالات کو اپنی آنکھ سے دیکھنے والا ہوں سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ سلوک طائف کے گنڈوں اور شہروں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تھا۔اسی طرح یہاں آپ کے بروز احمد قادیانی سے سیالکوٹ میں اس جماعت نے کیا۔جو مسلمانوں کے چیدہ و برگزیدہ علماء نے چند روز پہلے کے وعظ سے تیار کی تھی۔خدا کا مامور ومرسل ان میں آیا۔تا کہ خدا کا پیغام انہیں سناوے۔اور تقرب الی اللہ کی راہیں بتائے۔مگر انہوں نے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اہل طائف نے کیا تھا۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ نگ انسانیت دشمن طائف کے شریروں سے بھی آگے نکل گئے۔گالیاں دیں۔ننگے ہو کرنا چے۔اور بالآخر پتھر مارے۔طائف کے بدمعاشوں نے یہ تو نہیں کیا تھا۔کہ وہ ننگے ہو کر نا چیں۔اس قسم کی ایذا دہی پر قیاس ہو سکتا ہے کہ اس کے جواب میں انتہائی غیظ و غضب کا اظہار کیا گیا ہوگا۔حضرت حجت اللہ مسیح موعود علیہ السلام ان جفا کار ان کو دیکھتے۔اور ان کے لئے دعا کرتے۔اور نہایت درد دل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور عرض کرتے۔