سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 434
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۴ دونوں صاحب باہم گتے جاویں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مخلص اور جاں نثار و غیور فدائی کو روک دیا۔اس پر نو وارد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کر کے کہا کہ استہزا اور گالیاں سننا انبیاء کا ورثہ ہے۔حضرت اقدس نے اس پر فرمایا کہ ہم تو ناراض نہیں ہوتے۔یہاں تو خاکساری ہے۔اور جب اس نے قاف ادا نہ کرنے کا حملہ کیا۔تو حضرت اقدس نے فرمایا۔”میں لکھنو کا رہنے والا تو نہیں ہوں۔کہ میرا لہجہ لکھنوی ہو میں تو پنجابی ہوں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی یہ اعتراض ہوا کہ لا يَكَادُ يُبينُ اور احادیث میں مہدی کی نسبت بھی آیا ہے کہ اس کی زبان میں لکنت ہوگی۔“ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب سے جب یہ واقعہ پیش آیا تو حضرت نے اپنی جماعت موجودہ کو خطاب کر کے فرمایا۔”میرے اصول کے موافق اگر کوئی مہمان آوے اور سب وشتم تک بھی نوبت پہنچ جاوے تو اس کو گوارا کرنا چاہیئے کیونکہ وہ مریدوں میں تو داخل نہیں ہے۔ہمارا کیا حق ہے کہ اس سے وہ ارادت اور ادب چاہیں جو مریدوں سے چاہتے ہیں۔یہ بھی ہم ان کا احسان سمجھتے ہیں کہ نرمی سے بات کریں۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ زیارت کرنے والے کا تیرے پر حق ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر مہمان کو ذرا سا بھی رنج ہوتو وہ معصیت میں داخل ہے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ ٹھہریں۔چونکہ کلمہ کا اشتراک ہے جب تک یہ نہ سمجھیں جو کہیں ان کا حق ہے۔“ احکم ۲۱ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۳ تا تلخیص) وہی ڈاکٹر صاحب پھر کچھ دن اور ٹھہرے۔اور صبح و شام حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کرتے رہے اور جواب سنتے رہے۔میں نے اس سوال وجواب کو انہی ایام میں شائع کر دیا تھا۔آخر میں نو وارد ڈاکٹر نے دعا کے لئے عرض کیا، حضرت نے فرمایا۔