سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 413
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۳ حلم وحوصلہ اور ضبط نفس و بُر دباری میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فلسفہ اخلاق پر شمائل واخلاق کی پہلی جلد میں بحث کی ہے اور اس میں غزالی کے فلسفہ اخلاق سے مقابلہ کر کے دکھایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اخلاق فاضلہ کی حقیقت کو جس آسان اور عام فہم طریق میں بیان کیا ہے کوئی دوسرا اس کی برابری نہیں کر سکتا۔اور یہ فلاسفروں کے طریق پر نہیں بلکہ انبیاء علیہم السلام کے طریق پر ہے۔اس باب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم وحوصلہ اور ضبط نفس و بُردباری پر بحث کرنا چاہتا ہوں۔حقیقت میں یہ ایک ہی قوت اخلاق کے مختلف مظاہر ہیں۔اور ان میں بہت ہی کم فرق ہے۔ایسا فرق کہ ہر شخص امتیاز بھی نہیں کرسکتا۔غزالی کے فلسفہ کے موافق غضب کی قوت اگر افراط وتفریط سے بالکل بری ہو۔یعنی اس طرح عقل کے قابو میں ہو کہ وہ جس طرف بڑھائے بڑھے۔اور جہاں رو کے رک جائے۔تو اس کو شجاعت کہتے ہیں۔اور شجاعت کے مختلف مظاہر میں حلم ایک مظہر ہے۔میں اس پر بحث نہ کر کے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حلم غصہ کے مقابل واقع ہوا ہے۔اور میں پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فلسفہ اخلاق کی روشنی میں بتا چکا ہوں کہ کوئی قوت اور کوئی جذ بہ جو انسان کو دیا گیا ہے۔فِي نَفْسِهَا بُرا یا مضر نہیں بلکہ اس کے سُوءِ استعمال سے نقائص یا رذائل پیدا ہوتے ہیں۔اور اس کے استعمال کی تعدیل سے اعلیٰ اخلاق سرزد ہوتے ہیں۔غصہ کبھی بھی نہ آئے تو یہ کوئی خوبی کی بات نہیں۔اس لئے کہ جہاں غصہ آنا چاہیے اگر وہاں بھی نہ آیا تو قدرتی اور طبعی طور پر اس سے فضائل نہیں رذائل پیدا ہوں گے۔بے ہمتی ، دنائت طبع اس سے پیدا ہوتی ہے۔اسلام یہ نہیں سکھاتا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ی تعلیم اخلاق لے کر آئے۔آپ نے بتایا کہ قوت غضبیہ کا جائز استعمال کرو۔اور اس استعمال کے وقت اس پر حکومت کرو۔ہمیشہ لَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (البقرة :۱۹۱) تمہارے سامنے رہے اگر تم نفس اور جذبات پر حکومت نہیں کرتے۔تو اس شرف انسانی کی جس کو خلافت اللہ کہتے ہیں تم ہتک کرنے والے ٹھہرو گے۔