سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 385
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ”ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہیے“ ۳۸۵ اس بد مزاج دوست کا واقعہ سن کر آپ معاشرت نسواں کے بارے میں دیر تک گفتگو کرتے رہے اور آخر میں فرمایا۔میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھا اور میں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے۔اور با ایں ہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا۔اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع وخضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الہی کا نتیجہ ہے۔“ مجھے اس بات کے سننے سے اپنے حال اور معرفت اور عمل کا خیال کر کے کس قدر شرم اور ندامت حاصل ہوئی بجز خدا کے کوئی جان نہیں سکتا۔میری روح میں اُس وقت میخ فولادی کی طرح یہ بات جاگزیں ہوئی کہ یہ غیر معمولی تقویٰ اور خَشْيَةُ الله اور دقائق تقویٰ کی رعایت معمولی انسان کا کام نہیں ورنہ میں اور میرے امثال سینکڑوں اسلام اور اتباع سنت کے دعوے میں کم لاف زنی نہیں کیا کرتے اور اس میں شک نہیں کہ متعمد بے باک اور حدود الہیہ سے متکبرانہ تجاوز کرنے والے بھی نہیں۔تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ قوت قدسیہ اور تیز شامہ ہمیں نہیں ملی یا اور عوارض کے سبب سے کمزور ہو گئی ہے۔ہم بڑی سے بڑی سعادت اور اتقا اس میں سمجھتے ہیں کہ موٹے موٹے گنا ہوں اور معاصی سے بیچ رہیں اور بڑے ہی بین اور مرئی گناہوں کے سوا دقائق معاصی اور مشتبہات کی طرف ہم التفات نہیں کرتے۔یہ خورد مبین کامل ایمان اور کامل عرفان اور کامل تقویٰ سے ملتی ہے جو حضرت اقدس امام الزمان علیہ السلام کو عطا ہوئی ہے اور میں نے اُس وقت لسان اور جنان کے نیچے اتفاق سے کہا اور تسلیم کیا کہ اگر اور ہزاروں باہرہ حجتیں آپ کے منجانب اللہ ہونے پر جو آفتاب سے زیادہ درخشاں ہیں نہ بھی ہوتیں جب بھی یہی ایک بات کہ غیر معمولی تقویٰ اور خَشْيَةُ اللہ آپ میں ہے کافی دلیل تھی۔