سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 379
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس شغل میں اس قدرمنہمک ہو گئے کہ ۳۷۹ دنیا سے آپ کی توجہ بالکل جدا ہوگئی پھر تالیفات کا سلسلہ غیر مذاہب کے لیڈروں اور معترضین اسلام کے اعتراضات کے جوابات اور مباحثات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اور کامل طور پر آپ اسی میں مصروف ہو گئے۔اس عرصہ میں آپ حسن سلوک اور شفقت کے کسی پہلو کو ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔اسی اثناء میں خدا تعالیٰ کی وحی کے ماتحت آپ کو دوسری شادی کرنے کا اتفاق ہوا۔کن حالات میں وہ شادی ہوئی۔اور کیا اسباب پیدا ہوئے۔اس کا تفصیلی ذکر انشاء اللہ سوانح حیات میں کروں گا۔یہاں یہ ذکر محض سلسلہء واقعات کی زنجیر کےطور پر کیا ہے۔غرض جب دوسری شادی ہوگئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دوستم کی ذمہ داریاں عائد ہو گئیں۔یعنی پہلی اور دوسری بیوی کے ساتھ تعلقات اور اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حالت بالکل اور ہو چکی تھی۔خاندانی تمدن اور طریق بود و ماند میں تبدیلی واقعہ ہو چکی تھی۔ایک خاندان مشترکہ دو خاندانوں پر منقسم ہو گیا تھا۔اس وقت حالات نے ایک اور پلٹا کھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی بالکل اذن و امر الہی کے ماتحت ہوگئی۔آپ کا ہر فعل خدا تعالیٰ کی وحی خفی کے ماتحت ہونے لگا۔اس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تعلقات پہلی بیوی کے ساتھ جہاں تک ضروریات زندگی کا تعلق ہے بہت اچھے تھے۔آپ ان کی ضروریات کا تکفل فرماتے۔اور با قاعدہ اخراجات دیتے رہتے تھے۔دوسری شادی کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رعایت انصاف اور عدل کا احساس کامل فرمایا۔حضرت ام المومنین کی اپنی روایت اس بارہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس طرح پرلکھی ہے۔بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اوائل سے ہی مرز افضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر بھیجے دی ماں“ کہا کرتے تھے بے تعلقی ہی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ