سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 371 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 371

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۱ دیتے تھے۔۱۵ فروری ۱۹۰۱ء کا واقعہ ہے کہ ہمارے مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان کے طلباء کا کرکٹ میچ تھا۔بچوں کی خوشی بڑھانے کے لئے بعض بزرگ بھی شامل ہو گئے۔کھیل میں نہیں۔بلکہ نظارہ کھیل کے لئے۔اور فیلڈ میں چلے گئے۔حضرت اقدس کے ایک صاحبزادہ نے بچپن کی سادگی میں کہا کہ ہا تم کیوں کرکٹ پر نہیں گئے۔یہ وہ زمانہ تھا جب آپ پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے مقابلہ میں اعجاز المسیح لکھ رہے تھے۔بچہ کا سوال سن کر جو جواب دیا وہ آپ کی فطرتی خواہش اور مقصد عظمی کا اظہار کرتا ہے فرمایا۔وہ تو کھیل کر واپس آجائیں گے۔مگر میں وہ کرکٹ کھیل رہا ہوں۔جو قیامت تک قائم رہے گا۔“ (اخبار الحکم ۲۴ فروری ۱۹۰۱ء صفحه ۱۰) بچوں کو اس قسم کے کھیلوں میں شریک ہونے سے کبھی نہیں روکتے تھے بلکہ پسند فرماتے تھے۔بچوں کی شادی کے متعلق طرز عمل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طرز عمل سے یہ پایا جاتا ہے کہ آپ حالات زمانہ کو مدنظر رکھ کر یہ پسند فرماتے تھے کہ بچوں کی شادی بد و شباب سے کچھ پہلے ہو جاوے۔تا کہ جب وہ زمانہ بلوغت میں قدم رکھیں۔اور ان کی زندگی میں ایک تغیر کا دور شروع ہو۔وہ اپنی رفیقہ زندگی اور مونسہ کو موجود پائیں۔چنانچہ آپ نے تمام بچوں کی شادیاں چھوٹی عمر ہی میں کر دی تھیں۔گوان کے رخصتانے زمانہ بلوغت میں ہوئے۔حضرت ام المومنین (مَتَّعَنَا اللهُ بِطُولِ حَيَاتِهَا۔آمین ) کی روایت سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس طرز عمل کے متعلق حضور کا منشاء صاف کر دیا ہے چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب نے تم بچوں کی شادیاں تو چھوٹی عمر میں ہی کر دی تھیں مگر اُن کا منشاء یہ تھا کہ زیادہ اختلاط نہ ہوتا کہ نشو و نما