سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 361 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 361

ت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۱ اور زور زور سے دھکے دے رہے ہیں اور چلا رہے ہیں ابا بُوا کھول، آپ پھر بڑے اطمینان سے اور جمعیت سے اٹھے ہیں اور دروازہ کھول دیا ہے۔بچہ اب کی دفعہ بھی اندر نہیں گھستا ذرا سر ہی اندر کر کے اور کچھ منہ میں بڑبڑا کے پھر الٹا بھاگ جاتا ہے۔حضرت بڑے ہشاش بشاش بڑے استقلال سے دروازہ بند کر کے اپنے نازک اور ضروری کام پر بیٹھ جاتے ہیں۔کوئی پانچ ہی منٹ گزرے ہیں تو پھر موجود اور پھر وہی گرما گرمی اور شور اشوری کہ ابا بوا کھول اور آپ اٹھ کر اسی وقار اور سکون سے دروازہ کھول دیتے ہیں اور منہ سے ایک حرف تک نہیں نکالتے کہ تو کیوں آتا اور کیا چاہتا ہے اور آخر تیرا مطلب کیا ہے جو بار بارستا تا اور کام میں حرج ڈالتا ہے۔میں نے ایک دفعہ گنا کوئی ہمیں دفعہ ایسا کیا اور ان ساری دفعات میں ایک دفعہ بھی حضرت کے منہ سے زجر و تو شیخ کا کلمہ نہیں نکلا۔“ ( مصنفہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی صفر ۳۳ ۳۴) بچوں کے علاج معالجہ میں بڑی مستعدی سے کام لیتے یوں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معمول تھا کہ ہر شخص کی ہر قسم کی مصیبت میں اس کے ساتھ ہمدردی فرماتے اور بیماروں کی طرف بھی توجہ فرماتے۔لیکن بچوں کے علاج معالجہ کے لئے شروع شروع میں آپ خاص اہتمام فرماتے۔قادیان میں کوئی ہسپتال اور دواخانہ تو تھا نہیں حضرت حکیم الامت بھی بعد میں تشریف لائے۔اور اس قسم کی ضرورتیں ہمیشہ لاحق رہتی تھیں۔ارد گرد کے دیہات کی مستورات اور قادیان کی عورتیں بھی اپنے بچوں کو علاج کے لئے حضرت اقدس کی خدمت میں لے آتی تھیں۔آپ پوری شفقت اور توجہ سے ان کا علاج فرماتے۔حضرت مخدوم الملت رضی اللہ عنہ اپنا چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں۔’ایک دفعہ بہت سی گنواری عورتیں بچوں کولیکر دکھانے آئیں اتنے میں اندر