سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 360
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام محمود ( حضرت خلیفہ امسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ) کو ئی تین برس کا ہو گا آپ لدھیانہ میں تھے میں بھی وہیں تھا گرمی کا موسم تھا مردانہ اور زنانہ میں ایک دیوار حائل تھی آدھی رات کا وقت ہو گا جو میں جا گا اور مجھے محمود کے رونے اور حضرت کے ادھر اُدھر کی باتوں میں بہلانے کی آواز آئی حضرت اُسے گود میں لئے پھرتے تھے اور وہ کسی طرح چپ نہیں ہوتا تھا۔آخر آپ نے کہا دیکھو محمود وہ کیسا تارا ہے بچہ نے نئے مشغلہ کی طرف دیکھا اور ذرا چپ ہوا۔پھر وہی رونا اور چلا نا اور یہ کہنا شروع کر دیا ”اتا تارے جانا“۔کیا مجھے مزہ آیا اور پیارا معلوم ہوا آپ کا اپنے ساتھ یوں گفتگو کرنا یہ اچھا ہوا ہم نے تو ایک راہ نکالی تھی اس نے اس میں بھی اپنی ضد کی راہ نکالی۔“ آخر بچہ روتا رو تا خود ہی جب تھک گیا چُپ ہو گیا مگر اس سارے عرصہ میں ایک لفظ بھی سختی کا یا شکایت کا آپ کی زبان سے نہ نکلا۔“ ( مصنفہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوئی صفحہ ۳۶،۳۵) یہ ایک مثال اور واقعہ نہیں۔ایک اور واقعہ میں حضرت مخدوم الملت کے الفاظ میں درج کرتا ہوں۔جس سے ایک طرف آپ کے اس سلوک اور طرز عمل کا پتہ چلتا ہے جو بچوں کے متعلق تھا۔اتابه اکھول وہاں آپ کے حوصلہ اور حلم کا بھی اظہار ہوتا ہے۔میں جب آپ کے حوصلہ اور حلم کا ذکر کروں گا۔تو انشاء اللہ اس واقعہ کی طرف اشارہ کر دینا ہی کافی سمجھوں گا۔آپ کی قدیمی عادت ہے کہ دروازے بند کر کے بیٹھا کرتے ہیں ایک لڑکے نے زور سے دستک بھی دی اور منہ سے بھی کہا ہے ابا بُو اکھول آپ وہیں اٹھے ہیں اور دروازہ کھولا ہے کم عقل بچہ اندر گھسا ہے اور ادھر ادھر جھانک تانک کر الٹے پاؤں نکل گیا ہے۔حضرت نے معمولاً دروازہ بند کر لیا ہے۔دو ہی منٹ گزرے ہوں گے جو پھر موجود