سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 359 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 359

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۹ صاحب موصوف نے حضرت اقدس سے کہا۔( ان ایام میں آم آئے ہوئے تھے اور حضرت اقدس بچوں کو خود تقسیم فرما رہے تھے۔عرفانی) حضرت اقدس بہت ہنسے اور بہت سے آم صاحب زادہ صاحب کو دیئے۔آپ کی غرض یہ تھی کہ وہ اپنے ہم جولیوں میں اچھی طرح تقسیم کریں۔یہ تو ان کے ہاتھ سے دلائے۔اور خود ان سب کو جو ساتھ ہوتے برابر حصہ دیتے۔اور وہ حضرت کے گھر میں ایک شاہانہ زندگی بسر کرتے۔عام سلوک میں حضرت اقدس کو کبھی کسی سے بھی فرق نہ ہوتا۔کھانے پینے کے لئے برابر پوری آزادی اور فراغت حاصل تھی۔ان کے سوا اگر ایسے موقعہ پر جبکہ آپ کوئی چیز تقسیم کر رہے ہوں۔کوئی بچہ ار کسی کا بچہ سامنے آجاوے آپ اس کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کرتے اور کچھ نہ کچھ ضرور عطا فرما دیتے اور یہ عادت حضور کی ہمیشہ سے تھی۔اپنی عمر کے اس حصے میں جب کہ آپ اللہ تعالیٰ کے امر اور اذن کے ماتحت مجاہدات میں مصروف تھے۔بعض یتامیٰ کی خاص طور پر خبر گیری فرماتے اور اپنی خوراک کا ایک حصہ ان کو دیتے تھے۔بچوں کی باتوں سے اکتاتے نہ تھے ہے کہ۔حضرت مخدوم الملت رضی اللہ عنہ نے بچوں کے متعلق آپ کے طرز عمل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا بار ہا میں نے دیکھا ہے اپنے اور دوسرے بچے آپ کی چار پائی پر بیٹھے ہیں اور آپ کو مضطر کر کے پائینتی پر بٹھا دیا ہے اور اپنے بچپنے کی بولی میں مینڈک اور کوے اور چڑیا کی کہانیاں سنا رہے ہیں اور گھنٹوں سنائے جارہے ہیں اور حضرت ہیں کہ بڑے مزے سے سنے جارہے ہیں گویا کوئی مثنوی ملائے روم سنا رہا ہے۔حضرت بچوں کو مارنے اور ڈانٹنے کے سخت خلاف ہیں۔بچے کیسے ہی بسور یں۔شوخی کریں۔سوال میں تنگ کریں اور بیجا سوال کریں اور ایک موہوم اور غیر موجود شے کے لئے حد سے زیادہ اصرار کریں آپ نہ تو کبھی مارتے ہیں نہ جھڑ کہتے ہیں اور نہ کوئی خفگی کا نشان ظاہر کرتے ہیں۔