سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 348
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۸ بڑھانے والی بات ہی لائے اتنے دراز عرصہ میں میں نے کبھی نہیں سنا کہ اندر تکرار ہورہی ہے اور کسی شخص سے لین دین کے متعلق باز پرس ہو رہی ہے۔“ خدام کے چھوٹے چھوٹے کام کی ہمیشہ قدر فرماتے اور ان کی دل جوئی فرماتے۔ان کی محنت سے زیادہ دیتے۔جن ایام میں کوئی کتاب یا رسالہ جلدی اور ضروری چھاپنا اور شائع کرنا مقصود ہوتا اور راتوں کو کام ہوا کرتا تھا تو جو لوگ حضور کے ساتھ عملہ پریس یا کا تب کام کرتے ان کے لئے دودھ اور دوسری ضروری چیزیں خاص توجہ سے مہیا فرماتے۔اور معمولی سے زیادہ اجرتیں دیتے۔اور با ایں ان کی کارگذاری پر نہ صرف خوشی بلکہ شکریہ کا اظہار فرماتے۔جن لوگوں نے ان آنکھوں ان ہاتھوں اور اس زبان کو دیکھا ہے اور حضرت کے عطایا کا لطف اٹھایا ہے۔آج ان کو کوئی بھی خوش نہیں کر سکتا۔اس زمانہ کے مقابلہ میں آج اجرتیں عام طور پر بھی زیادہ ہیں اور لوگ بہت کچھ کما لیتے ہیں۔لیکن اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ اس عصر سعادت کی یاد کا اشکبار آنکھوں سے جواب دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام عفو اور درگزر سے جو کام لیتے تھے۔اُسے میں عفو اور درگز ر کے باب میں بیان کر چکا ہوں۔یہاں میں صرف اس قدر لکھ جانا چاہتا ہوں کہ ایک طرف حسن کارگزاری پر خوشنودی اور انعام دیتے تھے اور غلطیوں اور فروگذاشت پر معاف کر دیتے تھے۔ان کے ساتھ محض ملازم یا خادم ہونے کی وجہ سے کبھی آپ اس قسم کا سلوک نہ فرماتے جو شرف انسانیت کی ہتک کرنے والا ہو۔بلکہ آپ ہمیشہ مساوات کا خیال رکھتے اور حاضر و غائب کسی کی تحقیر نہ صرف خود نہ کرتے بلکہ کسی کو جرات بھی نہ ہوتی کہ کر سکے۔ہر شخص کا نام عزت سے لیتے اور جب موقع ہوتا اس مساوات کا عملی اظہار مختلف صورتوں سے کرتے۔تا کہ دوسروں کو آپ کے اس عمل سے اپنے بھائیوں کے ساتھ اسی قسم کا سلوک کرنے کا سبق ملے۔اگر چہ اس مقام پر خدام سے حُسنِ سلوک کے باب کو میں مختصر کر چکا تھا۔اس لئے کہ تمام واقعات کی تفصیل آسان اور ممکن نہیں۔لیکن ایک واقعہ مجھے ایسا یاد آ گیا ہے کہ میں اسے چھوڑ نہیں سکتا۔