سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 312
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۲ مقدمہ کے لئے بھیجی جو خواجہ صاحب کے پاس رہتی تھی۔حضرت نے کبھی حساب نہ مانگا۔اس قسم کے مالی سلوک اور عطاء کے علاوہ حضرت صاحبزادہ عبد الطیف صاحب شہید حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ایک قیمتی کوٹ جو افغانی طرز کا تھا لائے۔خواجہ صاحب نے یہ کہہ کر مانگ لیا کہ حضور یہ کوٹ مجھے عنایت کر دیں کہ میں پہن کر عدالت میں داخل ہوا کروں۔اور اس کی برکت سے فریق مخالف کے وکیل اور عدالت پر میرا رعب ہو۔حضور نے ہنس کر یہ کا مدار قیمتی چغہ خواجہ صاحب کو دے دیا۔غرض آپ کی عطا ایک دریائے بیکراں تھی اور آپ کا ہاتھ ابر گوہر بار تھا۔برستا تھا اور سیراب کر جاتا تھا۔اور یہ سلسلہ رمضان کے مہینے میں بہت بڑھ جاتا تھا۔اور مخفی اور مخفی طریقوں سے حضور حاجت مندوں کو دیتے رہتے تھے۔اور قیمتی سے قیمتی چیز دوسروں کو دے دینے میں آپ کو کبھی تامل نہ ہوتا تھا۔یہ حالت آپ کی زندگی کے تمام حصوں میں پائی جاتی ہے۔بعثت اور مامور بیت سے پہلے بھی یہ اپنی شان میں جلوہ گر ہے۔چنانچہ میں نے سوانح حیات میں غفارہ یکہ والے کے متعلق لکھا ہے۔کہ حضرت نے کس طرح پر اس کی شادی کی تقریب پر اس کی مدد بعض زیورات سے کی۔یہا کیلی مثال نہیں۔ایسے بہت سے واقعات ہیں۔کوئی موقعہ ایسا آپ کو پیش نہیں آیا کہ آپ سے کسی نے کچھ مانگا ہو اور آپ نے نہ دیا ہو۔یا آپ نے کسی کی حاجت کو محسوس کر کے بغیر اس کے سوال یا درخواست کے اس کی مدد نہ کی ہو۔آپ کریم ابن کریم ابن کریم تھے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ وَبَارِكْ وَسَلَّمُ