سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 273
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۳ دریافت کیا جاتا تو آپ فرما دیتے دورہ ہو گیا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا ہوں فکر نہ کریں۔قریباً گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تک برابر اسی طرح پر مالش وغیرہ ہوتی رہی تب آپ کی طبیعت درست ہوئی اور نماز ادا کر کے اندر تشریف لے گئے۔ہم لوگ جو اردگرد بیٹھے تھے اس حالت کو دیکھ کر کہ بردِ اطراف ہو رہی تھی گھبرارہے تھے مگر آپ کی طبیعت میں سکون اور اطمینان تھا۔عام حالت بیماری میں عام طور پر جس طرح آپ کی توجہ دعا کی طرف ہوتی تھی اور زیادہ زور دعاؤں ہی پر ہوتا تھا۔دوا کی طرف بھی آپ توجہ کرتے تھے اور فوراً علاج کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے اور تَمَسُّك بالاسباب کو بھی ضروری سمجھتے تھے اور اس غرض کے لئے کبھی اس بات کی پراہ نہ کرتے تھے کہ اس علاج پر کیا خرچ ہوتا ہے۔جب آپ پر کسی بڑی بیماری کا حملہ ہوتا تھا تو وہ کسی بڑے عظیم الشان الہام کا پیش خیمہ ہوتی تھی۔جنوری ۱۹۰۰ء کے اوائل میں مرزا امام الدین صاحب اور ان کے رفقاء نے مسجد کا راستہ ایک دیوار کے ذریعہ بند کر دیا اس وقت آپ کو دردسر کا دورہ ہوا۔چنانچہ حضرت مخدوم الملت لکھتے ہیں۔حضرت اقدس کو کل معمولاً در دسرتھا اور ہم نے بھی عادتاً یقین کر لیا تھا کہ تحریک تو ہو ہی گئی ہے اب خدا کا کلام نازل ہو گا۔ظہر کے وقت مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا در دسر بہت ہے۔دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھ لی جائیں۔نماز پڑھ کر اندر تشریف لے گئے اور سلسلہ الہام شروع ہو گیا اور مغرب تک تار بندھا رہا۔مغرب کو تشریف لائے اور الہام اور کلام الہی پر بہت دیر تک گفتگو کرتے رہے کہ کس طرح خدا کا کلام نازل ہوتا ہے اور مہم کو اس پر کیسا یقین ہوتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے الفاظ ہیں اگر چہ دوسرے اس کی کیفیت سمجھ نہ سکیں۔“ ( مصنفہ حضرت مولا نا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی " صفحہ ۵۶)