سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 264 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 264

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۴ جماعت کے بعض لوگوں پر محض اس لئے ناراض ہو جاتا ہے کہ کیوں انہوں نے اُس مجلس کو نہیں چھوڑا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف بے ادبی کے کلمات بولے گئے۔وہ اسلام کا حقیقی پرستار اور خیر خواہ ہے یادشمن! غور کرو اور سوچو! میں اس باب کو ایک اور واقعہ کے بیان کے بعد ختم کر دیتا ہوں۔صاحبزادہ مبارک احمد ( اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطًا ) کا واقعہ حضرت صاحبزادہ مبارک احمد صاحب آپ کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے ( جو خدا تعالیٰ کی وحی کے موافق فوت ہو گئے اور مقبرہ بہشتی میں ان کا مزار ہے ) ہر بچہ اپنے ماں باپ کو پیارا ہوتا ہے قدرتی طور پر مبارک احمد کو حضرت صاحب بہت پیار کرتے تھے۔وہ خدا تعالیٰ کی ایک آیت تھا۔اس سے ایک مرتبہ قرآن مجید کے متعلق سہوا ایک بے ادبی ہو گئی قرآن مجید ان سے گر گیا تھا۔حضرت اقدس نے جب دیکھا تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا وہ شخص گویا بالکل بدل گیا تھا۔باوجود یکہ آپ بچوں کو تعلیمی معاملات میں سزا دینے کے بہت خلاف تھے مگر اس کو برداشت نہ کر سکے اور مبارک احمد کو ایک تھپڑ مارا جس سے نشان ہو گیا۔اور اظہار رنج فرمایا کہ قرآن مجید کی بے ادبی ہوئی ہے۔وہ بچہ ہے ابھی ان آداب سے واقف نہیں لیکن آپ اس کو برداشت نہیں کر سکتے اور چاہتے ہیں کہ کوئی حرکت کسی سے دانستہ یا نا دانستہ ایسی سرزد نہ ہو جو استخفاف شریعت یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن مجید کی ہتک اور تحقیر کا موجب ہو۔غرض آپ کی زندگی میں جب کبھی ایسا موقع آیا آپ نے غیرت دینی کا اظہار پورے جوش سے فرمایا آپ کو لوگوں نے گالیاں دیں۔ہر قسم کی تحقیر کی۔سامنے بیٹھ کر بُرا بھلا کہا۔آپ کو کبھی غصہ نہیں آیا اور آپ نے عفو و کرم کا اظہار کیا مگر جو امر آپ کی برداشت سے باہر تھا وہ ایک ہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر نہ سن سکتے تھے۔یہ واقعات غیرت دینی کے اظہار کی ایک شان ہیں غیرت دینی کے اظہار کا ایک دوسرا رنگ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کے خلاف کوئی اعتراض آپ سن نہ سکتے تھے اور فورا اس کے جواب کے لئے آمادہ ہو جاتے تھے۔اس کا بیان دوسرے موقع پر ہوگا۔