سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 260 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 260

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔۲۶۰ بعد از خدا بعشق محمد محمر م گر کفر این بود بخدا سخت کا فرم آپ کے کلام کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کہیں نام اور ذکر آتا ہے اُس وقت آپ کی حالت بالکل اور ہو جاتی ہے محبت اور فدائیت کا ایک سمندر ہے جو موجیں مار رہا ہے۔عربی، فارسی ، اردو میں جو مدح آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کی ہے اس کی شان ہی نرالی ہے۔غرض دنیا کی تمام محبوب ترین چیزوں میں سے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود بہت پیارا تھا اور وہ اس محبت اور پیار کو اس وقت سے رکھتے جبکہ شیر خوار تھے خود فرماتے ہیں عشق تو دارم از اں روز یکه بودم شیر خوار اور اس محبت اور عشق کا یہ نتیجہ تھا کہ آپ کے لئے اس قدر غیرت اور جوش پیدا ہو گیا تھا کہ اس کے لئے سب کچھ قربان کر دینے کو ہمیشہ آمادہ رہتے تھے۔یہ محبت یہ عشق ایک معرفت کا مقام تھا۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کو جس رنگ میں آپ نے ظاہر کیا ہے تیرہ سوسال کے اندر اس کی نظیر نہیں ملتی۔غرض اس غیرت دینی نے ہمیشہ اپنے وقت پر اپنا جلوہ دکھایا اور یہ ظہور آپ کی بعد بعثت اور قبل بعثت یکساں تھا جیسا کہ میں واقعات سے بتا تا ہوں۔اپنی حقیقی چچی کے ہاں جانا چھوڑ دیا ابھی حضرت مسیح موعود کا دنیا میں کوئی دعوئی نہ تھا بلکہ دنیا آپ کو نہ جانتی تھی۔براہین احمدیہ بھی ابھی لکھی جانی شروع نہ ہوئی تھی۔حضرت مسیح موعود کے ایک چچا مرزا غلام حیدر مرحوم تھے یہ وہی مرزا غلام حیدر مرحوم تھے جن کے مکان میں آج حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رہتے ہیں۔ان کی اہلیہ بی بی صاحب جان تھیں ایک مرتبہ ان کے منہ سے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بے ادبی کا کلمہ نکل گیا با وجود اس احترام کے جو آپ بزرگوں کا کرتے تھے اس بات کا اثر آپ کی طبیعت پر اس قدر ہوا اور اس قدر بے تابی آپ کے قلب میں پیدا ہوئی کہ اس کا اثر آپ