سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 236 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 236

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی منوالی۔۲۳۶ زبخت خویش برخوردار باشی بشرط آں کہ بامن یار باشی ہمارے گاؤں میں ایک شخص تھا۔اس کی گائے بیمار ہوگئی۔صحت کے لیے دُعائیں مانگتا رہا ہو گا مگر جب گائے مرگئی تو وہ دہر یہ ہو گیا۔خدا نے اپنی قضا و قدر کے راز مخفی رکھے ہیں اور اس میں ہزاروں مصالح ہوتے ہیں۔میرا تجربہ ہے کہ کوئی انسان بھی اپنے معمولی مجاہدات اور ریاضات سے وہ قرب نہیں پاسکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ابتلا آنے پر پاسکتا ہے۔زور کا تازیانہ اپنے بدن پر کون مارتا ہے۔خدا تعالیٰ بڑا رحیم وکریم ہے۔ہم نے تو آزمایا ہے ایک تھوڑا سا دُکھ دے کر بڑے بڑے انعام واکرام عنایت فرماتا ہے۔وہ جہان ابدی ہے جو لوگ ہم سے جدا ہوتے ہیں وہ تو واپس نہیں آسکتے ہاں ہم جلدی اُن کے پاس چلے جاویں گے۔اس جہان کی دیوار کچی ہے اور وہ بھی گرتی جاتی ہے۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہاں سے انسان نے لے ہی کیا جانا ہے۔اور پھر انسان کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کب جانا ہے۔جب جائے گا بھی تو بے وقت جائے گا اور پھر خالی ہاتھ جائے گا۔ہاں اگر کسی کے پاس اعمال صالحہ ہوں تو وہ ساتھ ہی جائیں گے۔بعض آدمی مرنے لگتے ہیں تو کہتے ہیں میرا اسباب دکھا دو اور ایسے وقت میں مال و دولت کی فکر پڑ جاتی ہے۔“ (اخبار الحکم ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحه ۶،۵) اعلیٰ ایمان فرمایا۔کل والا الہام کہ ” خدا خوش ہو گیا “ ہم نے اپنی بیوی کو سنایا تو اس نے سن کر کہا مجھے اس الہام سے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر دو ہزار مبارک احمد بھی مرجا تا تو میں پروانہ کرتی۔تر جمہ۔تو اپنے نصیبہ کا پھل خوب کھائے گا بشرطیکہ میرا دوست بن جائے۔