سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 133
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۳۳ حصّہ اوّل غلام نہیں بلکہ اپنے معزز اور شریف بھائی سمجھتا تھا۔ان کے اکرام و احترام سے وہ سبق دیتا تھا کہ ہم کو کس طرح پر اپنے بھائیوں سے سلوک کرنا چاہیے اور کس طرح ایک دوسرے سے احترام کے اصول پر کار بند ہو کر اس حقیقی عزت و احترام کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے جو مومنین کا خاصہ ہے۔کیا دنیا کے پیروں اور مُرشدوں میں اس کی نظیر پائی جاتی ہے؟ ہر گز نہیں۔ہاں یہ نظیر اگر ملے گی تو اس جماعت میں جو انبیاء علیہم السلام کی جماعت ہے اور یا ان لوگوں میں ملے گی جنہوں نے منہاج نبوت پر خدا تعالیٰ کی تجلیوں اور فیوض کو حاصل کیا ہے۔(۷) منشی عبد الحق نو مسلم کا واقعہ منشی عبدالحق بی۔اے جو مولوی چراغ الدین صاحب قصوری مدرس مشن سکول لاہور کے فرزند رشید ہیں اور ایک زمانہ میں عیسائی ہو گئے تھے اور لاہورمشن کالج میں بی۔اے کلاس میں پڑھتے تھے۔انہوں نے الحکم اور حضرت اقدس کی بعض تحریروں کو پڑھ کر حضرت اقدس کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا تھا کہ وہ اسلام کی حقانیت اور صداقت کو عملی رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔اس پر حضرت خلیفۃ اللہ نے ان کو لکھ بھیجا تھا کہ وہ کم از کم دوماہ کے لئے قادیان آجائیں۔چنانچہ وہ ۲۳ دسمبر ۱۹۰۱ء کو بعد دو پہر قادیان پہنچے۔حضرت اقدس کی طبیعت ان ایام میں ناساز تھی مگر با وجود ناسازی مزاج کے آپ دوسرے مہمانوں اور اس حق جو مہمان کے لئے باہر تشریف لے آئے اور سیر کو تشریف لے گئے۔اور تمام راستہ میں آتی اور جاتی دفعہ برا بر تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔اس تبلیغ کا نتیجہ تو آخر میں یہ ہوا کہ یہ نو جوان مسلمان ہو گیا اور برہان الحق ایک رسالہ بھی تالیف کیا اور بھی چھوٹے چھوٹے رسالے لکھے۔مگر میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ با وجود ناسازی طبیعت آپ مہمان نوازی کے اعلیٰ مقام پر ہونے کے باعث باہر تشریف لائے اور یہ دیکھ کر کہ وقت کو غنیمت سمجھنا چاہیے آپ نے پوری تبلیغ فرمائی اور آخر میں منشی عبدالحق صاحب کو فر ما یا کہ وو ” آپ ہمارے مہمان ہیں اور مہمان وہی آرام پاسکتا ہے جو بے تکلف