سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 96 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 96

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۶ حصّہ اوّل ايَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة: ۵) بے بَلِ اللهُ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ (النساء:۵) لیکن جو شخص ظلم صریح اور کذب فاش کو چھوڑ دے اور حتی الوسع و استطاعت تزکیہ نفس میں مجاہدہ کرے اس کو جناب الہی سے امیدوار ہونا چاہیے جو اس توحید کا پیالہ اس کے نصیب کرے۔گرچه وصالش نہ بکوشش ہند ہر قدراے دل کہ توانی بکوش ،، (الحکم ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۴ کالم نمبر ۳۰۲) یہ مضمون جس کے اقتباس میں نے اوپر دیئے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آج سے قریباً پچاس برس پہلے لکھا تھا اور اس کی اشاعت کی سعادت صرف ایڈیٹر احکام کے حصہ میں آئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فلسفہ اخلاق کا بیان اور بھی طویل ہوسکتا تھا جبکہ میں تمام اخلاقی امراض کو لے کر ان کے فلسفہ علامات اور اسباب اور علاج پر بحث کرتا مگر میرے مد نظر یہ امر نہیں ہے بلکہ مجھے یہ دکھانا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے فلسفہ اخلاق میں ابنیاء علیہم السلام کے طریق کو اختیار کیا۔فلاسفروں کا اتباع نہیں کیا اور خدا تعالیٰ سے خاص علم پا کر آپ نے اس کو دنیا پر ظاہر کیا۔آپ نے اخلاق کی تقسیم دو طرح پر کی ہے ایصال خیر اور ترک شر۔میں آئندہ آپ کے اخلاق میں اسی تقسیم کو مد نظر رکھوں گا۔وَ بِاللهِ التَّوفيق ترجمہ۔اگر چہ اس کا وصال کوشش سے حاصل نہیں ہو سکتا، پھر بھی اے دل جہاں تک تجھ سے ہو سکے کوشش کرے۔