سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 347
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۷ ساتھ سلسلہ بیعت میں خادم تھے حقیر و کم پایہ نہیں سمجھا۔بلکہ انہیں اپنے کنبہ کا ایک فرداور اپنے اعضاء کا ایک جز ویقین کیا۔اور اپنے عمل سے ہمیشہ دکھایا کہ کسی معاملہ میں کبھی کسی قسم کی ہتک ان کی پسند نہیں کی۔ان کو اپنے دوستوں اور خدام کا اس قدر پاس تھا کہ وہ کسی دوسرے سے بھی ان کی بہتک سننا پسند نہ کرتے تھے۔میرے لئے یہ ایک ایسی لذیذ داستان نہیں نہ ہی ایمان وعرفان سے بھری ہوئی حقیقت ہے کہ میں ہر چند چاہتا ہوں کہ ہر باب کو ایک محدودحصہ میں ختم کر دوں۔لیکن پھر کوئی نہ کوئی بات آکر واقعات کے اضافہ پر مجبور کر دیتی ہے۔اس جگہ اپنے خدام کے متعلق غیرت کا ذکر کرتے ہوئے مجھے یاد آ گیا کہ ڈاکٹر عبد الحلیم خان مرتد نے جماعت کے بعض بزرگوں پر اپنے خطوط میں حملہ کیا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے سختی سے جواب دیا اور جماعت کے معزز افراد کی عزت بچانے کے لئے اسے جماعت سے خارج کر دینا آسان سمجھا۔آپ اپنے احباب و خدام پر ہمیشہ اعتماد کرتے تھے اور اُن پر حسن ظن رکھتے۔اُن کی دیانت وامانت پر بھروسہ فرماتے۔آپ کی عادت میں نہ تھا کہ خدام سے حساب کرتے رہیں۔یا ان پر احتساب قائم کریں۔دو دوست اور احباب تو بہت بڑی بات ہے آپ اپنے ادنیٰ درجہ کے خدام اور ملازمین سے بھی یہی سلوک روار کھتے تھے۔حضرت مخدوم الملتہ نے اس خصوص میں لکھتے ہوئے فرمایا ہے کہ گاؤں کے بہت ہی گمنام اور پست ہمت اور وضیع فطرت جولا ہوں کے لڑکے اندر خدمت کرتے ہیں اور بیسیوں روپیہ کے سودے لاتے ہیں۔اور بار ہا لا ہو ر جاتے اور ضروری اشیاء خرید لاتے ہیں۔کبھی گرفت نہیں سختی نہیں ، باز پرس نہیں ، خدا جانے کیا قلب ہے اور در حقیقت خدا ہی ان قلوب مطہرہ کی حقیقت جانتا ہے جس نے خاص حکمت اور ارادہ سے انہیں پیدا کیا ہے۔اور کیا ہی سچ فرمایا: اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ۔“ میں نے خاص غور کی اور ڈھونڈ کی ہے۔آنکھ لگائی ہے۔کان لگائے ہیں۔اور ایسے اوقات میں ایک نکتہ چیں ریو یونولیس کا دل ودماغ لے کر اس نظارہ کا تماشائی بنا ہوں۔مگر میں اعتراف کرتا ہوں کہ میری آنکھ اور کان ہر دفعہ میرے ایمان اور عرفان کو