سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 111
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصّہ اوّل انتقام صحیح ہوتا اس لئے کہ ڈاکٹر کلارک نے آپ کی عزت و آبرو اور آپ کی جان پر حملہ کیا تھا۔مگر آپ کو جب موقع دیا گیا تو آپ نے پسند نہیں کیا کہ اس سے وہی سلوک کیا جائے جس کا اس نے خود ارتکاب کیا۔گو وہ اس کا مستحق تھا۔اور یہ پہلی مثال نہ تھی آپ کی زندگی میں اس کی بہت کثرت سے مثالیں ملتی ہیں اور بعض کا میں یہاں بھی ذکر کروں گا۔(۳) مولوی محمد حسین بٹالوی پر احسان اسی مقدمہ ڈاکٹر کلارک میں مولوی محمد حسین بٹالوی ایک گواہ کی حیثیت سے حضرت مسیح موعود کے خلاف پیش ہوئے۔مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ بٹالہ کے رہنے والے تھے۔ابتدا میں انہوں نے حضرت مسیح موعود کی پہلی تصنیف براہین احمدیہ پر ایک زبردست ریویو لکھا اور حضرت کا اکرام و احترام بہت کرتے تھے۔مگر بعد میں کسی مخفی شامت اعمال کی وجہ سے وہ مخالف ہوئے اور خطر ناک مخالفت کا رنگ انہوں نے اختیار کیا۔یہ مقام ان کی مخالفت کی نوعیت اور اس بارہ میں اس کی تفاصیل اور تذکرہ کا نہیں۔وہ اتنا تلخ دشمن تھا کہ کفر وقتل کے فتوے اسی نے شائع کرائے اور بالآخر وہ اس مقدمہ اقدام قتل میں عیسائیوں کا گواہ ہو کر آیا۔اور وہ یہ ثابت کرنے کے لئے آیا تھا کہ فی الحقیقت جو الزام لگایا گیا ہے وہ گویا ( نعوذ باللہ درست ہے۔عدالت میں اس کے ساتھ کیا گزرا اور اس کی کس طرح پر کرکری ہوئی میں اسے بھی چھوڑ دیتا ہوں کہ یہ حصہ مخصوص ہے اس کی سیرت و سوانح کے اس باب سے جو آپ کے دشمنوں کے انجام کے متعلق ہے۔غرض اس مقدمہ میں مولوی محمد حسین صاحب کی یہ پوزیشن تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود کے خلاف گواہ تھا روزانہ عدالتوں میں دیکھا جاتا ہے کہ ہر ایک فریق اپنے مخالف گواہوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ان کی عزت و وقار پر واقعات حقہ سے قطع نظر ایسے حملے ہوتے ہیں کہ وہ عاجز ہو جاتے ہیں۔مولوی محمد حسین صاحب جب حضرت کے خلاف دل کھول کر گواہی دے چکے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اُن پر جرح کا موقع دیا گیا۔حضرت کی طرف سے مولوی فضل الدین پلیڈ ر لا ہور وکیل تھے جو اس سلسلہ میں داخل نہیں ہیں انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب پر کچھ ایسے