سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 72
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصّہ اوّل مزاح اور تفریحی امور میں بھی وہ کامل نمونہ ہوتے ہیں۔یہ سلسلہ سیر کا اخیر عمر تک بدستور جاری رہا اور سفر حضر میں کبھی بند نہیں ہوا۔یعنی جب آپ کہیں باہر تشریف لے جاتے مثلاً لودہانہ ، لاہور ، سیالکوٹ ، دہلی وغیرہ تو بھی آپ نے سیر کے سلسلہ کو بند نہیں کیا۔بعثت اور ماموریت کے بعد جب لوگوں کی کثرت ہوئی تو سیر کا نظارہ ایک قابل دید نظارہ ہوتا تھا اور آج قلم میں یہ طاقت نہیں کہ اس نظارہ کی دلچسپیوں کا مرقع کھینچ سکے۔خدام کی جماعت کا ایک تانتا لگا ہوا ہوتا تھا اور کئی سو گز کے فاصلے تک یہ جماعت پھیلی ہوئی ہوتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام عصا ہاتھ میں لئے ہوئے چلے جایا کرتے تھے اور تمام راستہ میں تعلیم اسلام اور حقائق و معارف قرآنی کا ایک دریا موجیں مارتا ہوا بہا کرتا تھا۔میں ان خوش نصیب انسانوں میں سے ہوں (وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ ) که خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ ان سیروں کے حالات الحکم کے ذریعہ شائع کرنے کے قابل رہا۔صبح کی سیر الحکم کا ایک خاص عنوان ہوا کرتا تھا آپ نے بیماری میں بھی اس سیر کو بہت ہی کم ملتوی کیا بلکہ بیماری کا ایک علاج سمجھتے تھے اور فی الحقیقت فائدہ ہوا کرتا تھا۔آپ کے معمولات سیر میں یہ بات بھی داخل تھی کی حضرت نواب محمد علی خان صاحب اور حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے دروازہ پر تھوڑی دیر ٹھہر کران کا انتظار بھی فرمالیا کرتے تھے اور جب حضرت مولوی صاحب ساتھ ہوتے اور وہ چونکہ سبک رفتار تھے پیچھے رہ جاتے اور حضرت اقدس کو معلوم ہوتا تو اکثر ٹھہر کر ان کو ساتھ ملالیتے اور سیر کے فاصلے کو مختصر کر دیتے۔بعض خاص دوستوں کی مشایعت کے لئے آپ دور تک تشریف لے جایا کرتے۔ان معزز احباب میں سے جن کو یہ عزت نصیب ہوئی حضرت میر حامد شاہ صاحب رضی اللہ عنہ ، مولوی حسن علی صاحب مرحوم۔سیٹھ عبد الرحمان صاحب مرحوم مدراسی - مفتی محمد صادق صاحب۔مسٹر ڈکسن صاحب سیاح۔نواب مہدی نواز جنگ۔منشی محمد اروڑا مرحوم کے نام میں اس جگہ بیان کرتا ہوں اور یوں یہ عزت اور سعادت اکثر کے حصہ میں آئی ہے ممکن ہوا تو اکرام ضیف میں اس کا بیان وضاحت سے کیا جائے گا۔آپ کی یہ عادت چلنے پھرنے کی ایسی عام تھی کہ ریلوے کے سفر میں بھی آپ کو جہاں گاڑی کا