سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 63
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۳ حصّہ اوّل عادات و معمولات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شمائل اور خوراک ولباس وغیرہ کے متعلق آپ کے عملی خصائص کے تذکرہ کے بعد میں آپ کے معمولات اور عادات پر کچھ لکھتا ہوں۔اگر چہ ہر ایک باب بجائے خود ایک مستقل کتاب لکھوانی چاہتا ہے لیکن یہ میرے امکان سے باہر ہے۔اس لئے میں جو کچھ بھی لکھ سکتا ہوں لکھ دینا چاہتا ہوں۔بڑے بڑے اہل قلم اور نکتہ رس مؤرخ آئیں گے اور وہ خدا کے اس محبوب کے تذکروں سے دنیا کی ہر زبان میں ایک لذیذ اور منحنیم ذخیرہ مہیا کریں گے۔آپ کے معمولات کا خلاصہ تو صرف اسی فقرہ میں آجاتا ہے کہ آپ کی زندگی کا ہر لحظہ دین کی خدمت اور اشاعت ہی کے لئے وقف تھا۔آپ اپنے ہر سانس کو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت اور تائید ہی میں بسر کرنا چاہتے تھے اور بسر کرتے تھے۔ایک موقع پر فرمایا کہ ”میرا تو یہ حال ہے کہ پاخانہ پیشاب پر بھی مجھے افسوس ہوتا ہے کہ اتنا وقت ضائع ہو جاتا ہے کہ یہ بھی کسی دینی کام میں لگ جاوے۔“ اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ کی زندگی قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِین کا پورا نمونہ اور عملی تفسیر تھی۔چونکہ عبادات پر علیحدہ بحث کی گئی ہے اس لئے میں اس حصہ کو اس جگہ درج نہ کروں گا بلکہ صرف ان امور کا تذکرہ میرے زیر نظر ہے جو عام طور پر معمولات و عادات میں آسکتے ہیں۔نماز کے متعلق معمول حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معمول شروع سے یہ تھا کہ آپ سنن اور نوافل گھر پر پڑھا کرتے تھے اور فرض نماز جماعت کے ساتھ مسجد میں پڑھا کرتے تھے۔یہ التزام آپ کا آخر وقت تک رہا۔البتہ جب کبھی فرض نماز کے بعد دیکھتے کہ بعض لوگ جو پیچھے سے آکر جماعت میں شریک ہوئے ہیں اور ابھی انہوں نے نماز ختم نہیں کی اور راستہ نہیں ہے تو آپ مسجد میں سنتیں پڑھا کرتے تھے۔یا کبھی کبھی