سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 55
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۵۵ حصّہ اوّل موجود رکھتے تھے نہ صرف یونانی بلکہ انگریزی بھی۔اور آخر میں تو آپ کی ادویات کی الماری میں زیادہ تر انگریزی ادویہ رہتی تھیں۔مفصل ذکر طبابت کے نیچے آئے گا۔یہاں اتنا ذکر کر دینا ضروری ہے کہ آپ کئی قسم کی مقوی دماغ ادویات کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔مثلاً کوکا۔کولا۔مچھلی کے تیل کا مرکب۔ایسٹن سیرپ۔کونین۔فولاد وغیرہ۔اور خواہ کیسی ہی تلخ یا بدمزہ دوا ہو آپ اس کو بے تکلف پی لیا کرتے۔سر کے دورے اور سردی کی تکلیف کے لئے سب سے زیادہ آپ مشک یا عبر استعمال فرمایا کرتے تھے اور ہمیشہ نہایت اعلیٰ قسم کا منگوایا کرتے تھے۔یہ مشک خریدنے کی ڈیوٹی حکیم محمد حسین صاحب ( موجد ) مفرح عنبری کے سپر دتھی۔عنبر اور مشک دونوں مدت تک سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی کی معرفت آتے رہے۔مشک کی تو آپ کو اس قدر ضرورت رہتی کہ بعض اوقات سامنے رومال میں باندھ رکھتے تھے کہ جس وقت ضرورت ہوئی فورا نکال لیا۔کھانے کے متعلق کچھ اور اگر چہ جناب میر صاحب نے حضرت مسیح موعود کے کھانے کے متعلق بہت کچھ لکھ دیا ہے اور بحیثیت ایک خاندان کے ممبر اور ہر وقت اندر رہنے والے انسان کے اُن کے بیان کو خاص اہمیت ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ بعض باتوں کا ذکر اگر نہ کیا گیا تو یہ حصہ نا تمام رہ جائے گا۔اوائل میں جب حضرت مسیح موعود گوشتہ تنہائی میں رہتے تھے اور رات کا بڑا حصہ عبادت میں گزارتے تھے ان ایام میں آپ بھنے ہوئے چنے اور ریوڑیاں ملا کر استعمال کیا کرتے تھے۔اور یہ بطور شوق کے نہیں بلکہ بعض اوقات اس لئے کہ نیند کا وقت ٹل جاوے اور بعض اوقات اس وجہ سے کہ اپنا کھانا چونکہ دوسروں کو دے دیا کرتے تھے اس لئے آپ چنوں پر گزارہ کر لیتے تھے۔شکر کی ڈلیاں بھی آپ کبھی کبھی سالن کی بجائے استعمال کر لیتے تھے۔ماموریت کے عہد میں ایک مرتبہ آپ کی بھوک بند ہوگئی اور بہت دنوں تک یہ حالت ہوئی کہ کوئی چیز مرغوب نہ ہوتی تھی کبھی کبھی شکر کی ڈلی کے ساتھ ایک آدھ لقمہ کھا لیتے۔