سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 44
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴ حصہ اول تھے اتنے میں مفتی فضل الرحمن صاحب نے مولوی صاحب سے عرض کیا کہ حضرت صاحب چاہتے ہیں کہ اس ٹھنڈی ہوا اور ترشح میں باہر نکلیں آپ کی کیا رائے ہے مولوی صاحب نے کسی قدر پس و پیش کے بعد جو اُن کے علم کے لحاظ سے ضروری تھا کہ واقعات موجودہ کی بنا پر ان کے دل میں پیدا ہوتا مفتی صاحب سے کہا کہ عرض کر دو کہ پیٹھ اور کمر پر گرم کپڑا اچھی طرح لپیٹ لیں اور باہر نکل آئیں۔غرض حضرت اقدس علیہ السلام باہر نکلے اور بہت دیر تک باہر ہی لیٹے رہے۔“ اس کے بعد عموماً گرم پٹکا باندھتے رہے۔ایک مرتبہ جب گورداسپور میں مقدمات کا سلسلہ جاری تھا۔سخت بارش ہوئی اور قادیان اور گورداسپور کے درمیان پانی کا ایک تانتا لگا ہوا تھا اور علاوہ بریں وہاں کچھ حالات اچھے نہ تھے۔مذہبی عناد کی وجہ سے مختلف دشمنوں کی سازشیں ڈراتی تھیں۔حضرت اقدس کو تاریخ پر جانا تھا مگر وہاں سے خواجہ کمال الدین صاحب نے خاص آدمی بھیج کر عرض کیا کہ حضور تشریف نہ لائیں۔جب آدمی قادیان پہنچا تو آپ کمر باندھ کر نکل چکے تھے آپ نے فرمایا کہ نبی جب کمر باندھ کر نکلتا ہے تو پیچھے نہیں ہٹتا۔یہی الفاظ فرمائے یا اس کے ہم معنی فرمائے مگر مطلب یہی تھا اور یہ ضرور فرمایا کہ نبی جب کمر باندھ لیتا ہے اس واقعہ کے بیان کرنے سے میری غرض صرف یہ ہے کہ باہر سفر کو جب نکلتے تو عموماً کمر باندھ کر نکلتے تھے۔