سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 603
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۰۳ زور سے جھٹکے اگر کھاوے زمیں کچھ غم نہیں پر کسی ڈھب سے تزلزل سے ہو ملت رستگار دین و تقوی گم ہوا جاتا ہے یا رب رحم کر بے بسی سے ہم پڑے ہیں کیا کریں کیا اختیار میرے آنسو اس غم دل سوز سے تھمتے نہیں دیں کا گھر ویراں ہے اور دنیا کے ہیں عالی منار دیں تو اک ناچیز ہے دنیا ہے جو کچھ چیز ہے آنکھ میں اُن کی جو رکھتے ہیں ذَر و عزّ و وقار جس طرف دیکھیں وہیں اک دہریت کا جوش ہے دیں سے ٹھٹھا اور نمازوں روزوں سے رکھتے ہیں عار جاه و دولت یہ زہریلی ہوا پیدا ہوئی موجب نخوت ہوئی رفعت کہ تھی اک زہر مار ہے بلندی شان ایزد گر بشر ہووے بلند فخر کی کچھ جا نہیں وہ ہے متاع مُستعار ایسے مغروروں کی کثرت نے کیا دیں کو تباہ ہے یہی غم میرے دل میں جس سے ہوں میں دلفگار اے مرے پیارے مجھے اس سیل غم سے کر رہا ورنہ ہو جائے گی جاں اس درد سے تجھ پر نثار نوٹ۔مندرجہ بالا منظوم دعاؤں پر یک جائی نظر ڈالنے سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ آپ کے قلب صافی میں بنی نوع انسان کی بھلائی اور غم گساری کے لئے کس قدر جوش ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ آپ کے تعلقات کس بلند مقام پر ہیں۔حصہ پنجم