سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 599
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پھر ۵۹۹ خاکساری کو ہماری دیکھ اے دانائے راز کام تیرا کام ہے ہم ہو گئے اب بے قرار اک کرم کر پھیر دے لوگوں کو فرقاں کی طرف نیز دے توفیق تا وہ کچھ کریں سوچ اور بیچار ایک فرقاں ہے جو شک اور ریب سے وہ پاک ہے بعد اس کے ظن غالب کو ہیں کرتے اختیار یہ نقلیں بھی اگر میری طرف سے پیش ہوں تنگ ہو جائے مخالف پر مجال کارزار باغ مُرجھایا ہوا تھا گر گئے تھے سب ثمر میں خدا کا فضل لایا پھر ہوئے پیدا ثمار مرہم عیسی نے دی تھی محض عیسی کو شفا میری مرہم سے شفا پائے گا ہر ملک و دیار جھانکتے تھے نور کو وہ روزن دیوار سے لیک جب ڈر گھل گئے پھر ہو گئے شیر شعار وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے ب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے اُمید وار (۳۵/۱۸) موجودہ عذاب کی پیشگوئی اور بچاؤ کی تدبیر ودعا نشان زلزلہ جو ہو چکا منگل کے دن وہ تو اک لقمہ تھا جو تم کو کھلایا ہے نہار اک ضیافت ہے بڑی اے غافلو کچھ دن کے بعد جس کی دیتا ہے خبر فرقاں میں رحماں بار بار