سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 586
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۸۶ (نوٹ) اس دعا کے ایک ایک لفظ سے حضرت اقدس کے مقام عالی کا پتہ لگتا ہے کہ آپ کا مقصدِ زندگی خدا تعالیٰ کی رضا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت ہی کو آپ غذائے روح اور مایہ حیات یقین کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی محبت اور تعلق باللہ ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کے تمام اعضاء اور جوارح میں ایک نور پیدا کر دیتا ہے۔( ۲۹/۱۲) عذاب الہی سے بچنے کی دعا انبیاء علیہم السلام کی سیرت و فطرت میں یہ امر داخل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ہمیشہ پناہ مانگتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی قہری تجلیات کے آثار دیکھ کر بے قرار ہو جاتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کی پاک سیرت میں ہم دیکھتے ہیں کہ سخت آندھی آتی تو آپ گھبراتے اور دعا میں مصروف ہو جاتے اس لئے کہ یہی صرصری ہوا پہلے ایک قوم پر عذاب کی صورت میں آچکی تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے ایک زلزلہ عظیمہ کی خبر دی آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اس دعا میں ایک خاص رنگ ہے۔پھر چلے آتے ہیں یارو زلزلہ آنے کے دن زلزلہ کیا اس جہاں سے کوچ کرجانے کے دن تم تو ہو آرام میں پر اپنا قصہ کیا کہیں پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے سخت گھبرانے کے دن کیوں غضب بھڑ کا خدا کا مجھ سے پوچھو غافلو! ہو گئے ہیں اس کا موجب میرے جھٹلانے کے دن غیر کیا جانے کہ غیرت اس کی کیا دکھلائے گی خود بتائے گا انہیں وہ یار بتلانے کے دن ہ چمک دکھلائے گا اپنے نشاں کی پنج بار خدا کا قول ہے سمجھو گے سمجھانے کے دن وہ یہ حصہ پنجم