سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 585
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۸۵ (۲۸/۱۱) رضائے الہی کی طلب (۱) گر خدا هیچ حیوانی از بنده خوشنود نیست چو (۲) گرسگ نفس دنی مردود نیست را پروریم از سگان کوچہ ہا ہم کمتریم (۳) اے خدا اے طالبان را رہنما ایکہ میر تو حیات روح (۴) بر رضائے خویش گن انجام し し تا برآید در رو عالم کام ما (۵) خلق و عالم جمله در شور و شراند طالبانت در مقام دیگر اند ول حصہ پنجم (۶) آں یکے را نور می بخشی واں دگر را می گذاری پا به گل (۷) چشم و گوش و دل ز تو گیرد ضیا ذات تو چشمه فیض و بدی ترجمہ اشعار۔(۱) اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے خوش نہیں ہے۔ایسے انسان سے بڑھ کر کوئی جاندار مردود نہیں۔(۲) اگر ہم نفس دنی کے کتے کی پرورش کرتے رہیں۔یقینا ہم گلیوں کے کتوں سے بدتر ہیں۔(۳) اے خدا جو اپنے طالبوں کی رہنمائی کرتا ہے۔اے خدا تو وہ ہے کہ تیری محبت ہماری روح کی زندگی ہے۔(۴) اپنی رضا پر ہمارا انجام کر۔دونوں جہانوں میں یہی ہمارا مقصد ہے اور وہ اس سے پورا ہو جائے گا۔(۵) دنیا جہاں ایک شور وشر میں مبتلا ہے۔( مگر میں جانتا ہوں) کہ تیرے طب گاروں کا مقام ہی دوسرا ہے۔(۶) اس ایک (طالب خود ) کے دل میں تو ایک نور عطا کرتا ہے۔اور وہ دوسرا ( جو رو بدنیا ہے ) کیچڑ میں پھنسا ہوا ہے۔(۷) آنکھ کان اور دل تجھ ہی سے نور حاصل کرتے ہیں۔تیری ہی ذات ہر فیض و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔