سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 583
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۸۳ اے میرے یار جانی! کر خود ہی مہربانی مت کهه که لن ترانی تجھ سے رجا یہی ہے فرقت بھی کیا بنی ہے ہر دم میں جاں کنی ہے عاشق جہاں مرتے وہ تیری وفا ہے پوری ہم میں ہے عیب ڈوری مجھ کربلا یہی ہے طاعت بھی ہے ادھوری ہم پر بلا یہی ہے میں وفا ہے پیارے بچے ہیں عہد سارے ہم جا پڑے کنارے جائے گا یہی ہے ہم نے نہ عہد پالا یاری میں رخنہ ڈالا تو فضل پر والا ہم پر ہے اے میرے دل کے درماں ہجراں ہے تیرا سوزاں کھلا یہی ہے کہتے ہیں جس کو دوزخ وہ جاں وہ جاں گزرا یہی ہے اک دیں کی آفتوں کا غم کھا گیا مجھ کو ہے سینہ دشمنوں کے پتھر پڑا یہی ہے اس دیں کی شان و شوکت یا رب مجھے دیکھا کچھ شعر سب جھوٹے دیں مٹا دیں مٹا دے میری دعا یہی ہے و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے