سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 550
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۵۰ حصہ پنجم ( نوٹ ) اس دعا میں بھی دنیا کی مالوفات میں سے کوئی چیز طلب نہیں کی گئی بلکہ معرفت الہی کی تڑپ ہے اور اس بصیرت اور شعور کی بنا پر جو امیر عظیم کے لئے ماموریت کا آپ کو دیا گیا ہے اپنی کمزوری اور ضعف کا اقرار کر کے خدا تعالیٰ کی تائید اور قوت و نصرت کو طلب کیا گیا ہے انبیاء علیہم السلام کی سیرت میں یہ خصوصیت ہمیشہ نمایاں نظر آتی ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو ہر وقت پیش کرتے اور اپنی تمام قوتوں کو قوی عزیز خدا سے فیض یافتہ یقین کرتے ہیں اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ دعا اس حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہے۔(۱۴) دعا کا ایک نیا اسلوب به اظہار شکر حضور و حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے سیکھنے سے ایک اور حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ کی دعا بہت لمبی ہوتی تھی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نہایت لذیذ اور شیریں روح پرور چیز آپ کے اندر پیدا ہو رہی ہے۔اس لطف اور ذوق میں آپ بے خود ہو جاتے ہیں۔ایسی بے خودی کہ خدا تعالیٰ کی حمد وثنا اور اس کے صفات عالیہ کے اظہار کے لئے ایک جوش آپ کے قلب میں پایا جاتا ہے۔گریہ و بکار کی ظاہری صورت و کیفیت دیکھنے والوں کو نظر نہیں آتی تھی اور ایک پُرسکون دل کے ساتھ آپ دعا فرماتے تھے لیکن اندر سے گریہ و بکار کا انتہائی مقام اور انتہائی کیفیت آپ پیدا کر لیتے ہیں۔چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں۔جوش اجابتش که بوقت دعا بود زاں گونه زاریم نه شنید است مادرم اس شعر میں آپ نے اپنی حالت گریہ و بکاء کا اظہار کیا ہے۔اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ وہ اس انتہائی مقام پر پہنچا ہوا ہے کہ ایک بچہ بھی اپنی ماں سے الگ ہو کر اتنی گریہ وزاری نہیں کر سکتا اور آپ کی دعا میں وہ تمام کیفیات اور شروط جمع ہو جاتے تھے۔جو قبول ہونے والی دعا کے راز ہیں۔آپ کی عادت شریف میں یہ بات بھی تھی کہ بعض انعامات الہیہ کے نزول پر بھی بے اختیار ا ترجمہ۔اس کی قبولیت کا جوش جو میری دعا کے وقت ظاہر ہوتا ہے۔اتنی گریہ وزاری میری ماں نے بھی نہیں سنی۔