سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 545
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۴۵ ہفتم۔آپ کی بعثت کی غرض مخالفین اسلام پر اتمام حجت ہے اور آپ کی سب سے بڑی خواہش اور تمنا یہ ہے کہ اسلام کی خوبیوں سے بے بہروں کو آگاہ کریں۔ہشتم۔آپ کو اپنی اور اپنی جماعت کی کامیابی کا کامل یقین ہے۔نہم۔آپ اس یقین سے بھی لبریز دل رکھتے ہیں کہ آپ اور آپ کے مخلصین خدا تعالیٰ کے فضلوں اور انعام کے وارث ہوں گے دین و دنیا میں اللہ تعالیٰ ہی ان کا متکفل ہوگا اور ان کو دارالرضا نصیب ہوگا۔دہم۔آپ کی اس محبت کا اظہار ہوتا ہے جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے اہل بیت اور صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین سے ہے۔تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ اس دعا کو پھر پڑھو تم کو ایک لفظ بھی اس میں نہ ملے گا جس میں دنیا کی کوئی متاع اور مألوفات کی کسی خواہش کا اظہار ہو۔طبعی طور پر انسان زمینی آسائشوں اور عزتوں کا طلب گار ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ کے اپنے ہاتھ سے ممسوح کیا ہوا کہ اس قسم کی تمام خواہشوں پر موت وارد کر لیتا ہے آپ کے کلام اور عملی زندگی کو دیکھ تو معلوم ہوگا کہ ان چیزوں سے آپ کو کوئی تعلق نہ تھا چنا نچہ آپ فرماتے ہیں۔مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوان یار ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمیں کو کیا کریں آسماں کے رہنے والوں کو ز میں سے کیا نقار ملک روحانی کی شاہی کی نہیں کوئی نظیر گو بہت دنیا میں گزرے ہیں امیر و تاجدار داغ لعنت ہے طلب کرنا زمین کا عز و جاہ جس کا جی چاہے کرے اس داغ سے وہ تن فگار کام کیا عزت سے ہم کو شہرتوں سے کیا غرض گروہ ذلت سے ہوراضی اُس پہ سوعزت نثار ہم اسی کے ہو گئے ہیں جو ہمارا ہو گیا چھوڑ کر دنیائے دوں کو ہم نے پایا وہ نگار دیکھتا ہوں اپنے دل کو عرش رب العالمیں قرب اتنا بڑھ گیا جس سے ہے اترا مجھ میں یار کوئی ره نزدیک تر راہ محبت سے نہیں طے کریں اس راہ سے سالک ہزاروں دشت خار