سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 544 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 544

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۴۴ حصہ پنجم قبولیت کا بھی اظہار ہے جو ۳ ۱۳۰ھ میں بیت اللہ (حرم ) میں کی گئی تھی۔کچھ شک نہیں اس وقت دعا کے الفاظ حضرت منشی احمد جان رضی اللہ عنہ کے ہونٹوں سے نکل رہے تھے مگر خدا تعالیٰ کے حضور ان الفاظ کے ساتھ خود حضرت اقدس موجود تھے اسی لئے الہام میں یاد آورم کا لفظ ہے۔نوٹ۔اس دعا کے الفاظ پر غور کرنے سے حضرت اقدس کی سیرت کے مندرجہ ذیل پہلو صاف صاف نمایاں نظر آتے ہیں۔ނ اوّل۔آپ میں انتہائی درجہ کی خاکساری اور انکساری ہے۔خدا تعالیٰ کی کبریائی پر اس قدر ایمان اور عظمت الہی کی ایسی بصیرت ہے کہ اپنے آپ کو نا کارہ اور عاجز محض یقین کرتے ہیں اور اس میں کیا شک ہے کہ ساری قوتوں اور کبریائیوں کا چشمہ تو اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور جب تک انسان اپنی انانیت کو اس راہ میں کھو نہیں دیتا وہ کسی عظمت اور بزرگی کا مرکز نہیں ہوسکتا۔دوم۔آپ کی زندگی کا مقصد عظیم صرف یہ تھا کہ خدا تعالیٰ آپ سے راضی ہو۔چشم بصیرت اور قلب سلیم لے کر دیکھو کہ جس شخص کی زندگی کا مقصد یہ ہو کہ اپنی مولیٰ کو راضی کرنا چاہتا ہو اس سے یہ ممکن ہے کہ وہ اس پر افتر اکرے؟ سوم۔آپ کی فطرت اتنی پاکیزہ اور ایسا قدسی نفس ہے کہ جسے گناہ سے بے انتہا نفرت ہے اور نفس کے جذبات اور محرکات کو وہ اتنا دور ڈال دینا چاہتا ہے جیسے مشرق اور مغرب کا فاصلہ ہے۔چہارم۔اللہ تعالیٰ کی محبت میں وہ فانی ہے اور اپنی زندگی اور موت اور ہر ایک قوت کا ظہور اللہ تعالیٰ کی محبت میں چاہتا ہے۔پنجم۔آپ ایک بصیرت اور کامل شعور کے ساتھ خدا تعالیٰ کے گھر میں اس کے حضور اپنی ماموریت کا اظہار کرتے ہیں۔ایک مفتری علی اللہ کا یہ حوصلہ اور دل گردہ نہیں ہوسکتا کہ مامور نہ ہو اور خدا کے حضور مامور ہونے کا اظہار کرے۔ششم۔آپ کی فطرت سلیم میں یہ جوش ڈالا گیا تھا کہ وہ خدمت دین کریں اس فطرتی جوش کی تکمیل کے لئے آپ کے قلب میں تڑپ ہے۔